عجب لُطفِ خدا کا مرحلہ ہے
عجب فیض و عطا کا مرحلہ ہے مرے قلبِ تپاں مسرُور ہو جا جمال کبریا کا مرحلہ ہے
معلیٰ
عجب فیض و عطا کا مرحلہ ہے مرے قلبِ تپاں مسرُور ہو جا جمال کبریا کا مرحلہ ہے
کہ جیسے ہم کلامی ہو خدا سے خدا ہم کو ہر اک شر سے بچائے ہمیں محفوظ رکھے ہر بلا سے
خدا کا خوف طاری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے سرایت کر گیا اسمِ خدا ایسے رگ و پے میں عبادت میری جاری ہے مرے آنسو نہیں تھمتے
وہ قلبِ مطمئن ہے ہر گھڑی مسرُور ہوتا ہے مرے سرکار جب تک میرے دل میں نہ قدم رکھیں یہ دل مغموم ہوتا ہے، یہ دل رنجُور ہوتا ہے وہ ہر حالت میں ہیں سرکار کو ہی رُوبرو رکھتے نرالا آپ کے عشاق کا دستور ہوتا ہے حبیبِ کبریا جلوہ فگن عشاق کے دل میں […]
درِ سرکار پر ہر پل سرِ تسلیم خم رکھیں رہے مرکز خیال و فکر کا بس گنبدِ خضریٰ نظر کے سامنے ہر دم وہ تابندہ حرم رکھیں دل و جاں مضطرب ہیں، دید کو آنکھیں ترستی ہیں مجھے عز و شرف بخشیں، مرے دل میں قدم رکھیں رُخِ انور کا جن عشاق کو دیدار ہو […]
سرُور و کیف سے مسرُور دل ہے خدا نے کی عطا اپنی محبت بہت ممنون ہے مشکور دل ہے
خُدا کی قربتوں کا ذکر کرنا خُدا ڈالے گھروں میں خیر و برکت خدا کی برکتوں کا ذکر کرنا
ترا بھی اور ترے محبوب کا ادنیٰ ثناء خواں ہوں عطا کر صدقہ اپنی کبریائی اور شانِ مصطفائی کا بس اِک نگہِ کرم نگہِ محبت کا میں خواہاں ہوں
غم و آلام سے آزاد کر دے مرے ویرانۂ قلبِ حزیں کو تُو اپنی یاد سے آباد کر دے
خداوندِ ہمہ بے چارگاں تُو خداوندِ غریباں، سائلاں تُو خداوندِ ہمہ خستہ دِلاں تو