خداوندِ جمیعِ مُرسلاں تُو
خداوندِ فقیہاں مُقبلاں تُو خداوندِ حکیماں عاشقاں تُو خداوندِ ظفرؔ معجز بیاں تُو
معلیٰ
خداوندِ فقیہاں مُقبلاں تُو خداوندِ حکیماں عاشقاں تُو خداوندِ ظفرؔ معجز بیاں تُو
رسولِ پاک کی جود و سخا جاری و ساری ہے ظفرؔ جس کی ہے منزل خانہ کعبہ گنبدِ خضریٰ محبت شوق کا وہ مرحلہ جاری و ساری ہے
سہارا، آسرا کوئی نہیں ہے ہے کیوں مایوس یوں ایسے کہ جیسے ظفرؔ تیرا خدا کوئی نہیں ہے
ہے محکم آسرا مجھ بے نوا کا خدا کی حمد گونجے ہر زماں میں رہے شہرہ درودوں کی صدا کا مری سرکار ہیں خیرِ مجسم حوالہ امن کا، صدق و صفا کا زمانے آپ سے ہیں فیض پاتے ہے چرچا آپ کے جود و سخا کا وہی جو رحمۃ اللعالمیں ہیں وہ دیں مژدہ مریضوں […]
خدا کا ذکر، ذکرِ جانفزا ہے خدا گر دل میں یاد اپنی بسا دے خدا کا ہے کرم اُس کی عطا ہے
خدا کا ذکر ذکر جاں فزا ہے خدا کا ذکر جب نازل ہو دل پر لرزتا ہے بدن، دل کانپتا ہے
خدا ہم ورد ہے میرا تمہارا خدائے مہرباں احقر ظفرؔ کو ذرا سا پیار مل جائے خدارا
خوشی اولاد کی والد کی شفقت عطا کی بھائی بہنوں میں مؤدت خدا کی دین ہے حُسنِ مروّت
خدا بے پر کو پر کرتا عطا ہے خدا کب اپنے بندوں سے جُدا ہے خدا میرا خدا سب کا خُدا ہے
درودوں کی صدا سے قلب و جاں میں نور بھرتے ہیں مرے آقا خدارا اک جھلک روئے منوّر کی زیارت کی تمنّا، دید کے ارماں مچلتے ہیں نظر کے سامنے جب گنبدِ خضریٰ ہو تب عاشق مسلسل اشک برساتے ہیں، کب آنکھیں جھپکتے ہیں متاعِ زندگی وہ وقت جو گزرے حضوری میں مبارک روز و […]