زماں سب حمد میں مصروف ہر دم
سماں کیسا بھی ہو، کیسا بھی موسم خدا کی حمد گونجے ہر جہاں میں کبھی نہ گونج اِس کی ہو گی مدھم
معلیٰ
سماں کیسا بھی ہو، کیسا بھی موسم خدا کی حمد گونجے ہر جہاں میں کبھی نہ گونج اِس کی ہو گی مدھم
محبت آپ سے جب تک نہ ہو گی محبت گر نہ ہو خلقِ خدا سے خدا سے آگہی تب تک نہ ہو گی
تو اپنی رحمتوں کا ابربرسا، کہ تو ستّار بھی غفار بھی ہے کوئی تجھ سا سخی داتا نہ دیکھا کہ تو ستّار بھی غفار بھی ہے بھرم رکھ لے گدائے بے نوا کا، کہ تو ستّار بھی غفار بھی ہے
خدا موجود ہر جا ہر کہیں ہے خدا بندے کی شہ رگ سے قریں تر خدا عشاق کے دل میں مکیں ہے
اُسی کا حمد گو سارا جہاں ہے مرا جذبِ درُوں سوزِ نہاں ہے ظفرؔ کی روح و جاں، قلبِ تپاں ہے
خدا کے ہی ملائک، اِنس و جاں ہیں خدا کے نُور سے روشن زماں ہیں خدا کے فیض کے دریا رواں ہیں
منور شش جہت، کون و مکاں ہیں وہ ہر سُو جلوہ فرما ہیں عیاں ہیں کہا کس نے وہ مستُور و نہاں ہیں
ازل سے تا ابد جاری و ساری وہ بے آب و گیاہ بنجر زمیں کی کرے ابرِ کرم سے آبیاری
جمالِ فیض سے مسحُور رہنا بسا لینا خدا کو قلب و جاں میں سرُور و کیف سے مخمور رہنا
مری اُفتاد ہے میرا وظیفہ خدا و مصطفیٰ کا ذکر باہم ظفرؔ دِل شاد ہے میرا وظیفہ