خدا کی یاد میں قریہ بہ قریہ کُو بہ کُو پھرنا
خدا کا ذکر کرنا اور خدا کی جستجُو پھرنا کرم فرمائے تجھ مسکیں پہ جب ذاتِ خداوندی خدا کے سائے میں رہنا، خدا کے روبرو پھرنا
معلیٰ
خدا کا ذکر کرنا اور خدا کی جستجُو پھرنا کرم فرمائے تجھ مسکیں پہ جب ذاتِ خداوندی خدا کے سائے میں رہنا، خدا کے روبرو پھرنا
محبت سے اُسے رو رو مناؤ گے نہ جب تک عقیدت سے اُسے دل میں بٹھاؤ گے نہ جب تک تنِ مُردہ ہو رب سے لو لگاؤ گے نہ جب تک
تصور میں، خیالوں پر وہ چھائے نِدائے سرمدی کانوں کو بھائے ظفرؔ پر بھی خدا وہ وقت لائے
خدا کا ذکر میری بندگی ہے مرے غفلت میں جو لمحات گزرے ہے پچھتاوا مجھے شرمندگی ہے
جو موجودات میں واضح عیاں ہے گزرگاہِ خدا ہے چشم گِریاں یا پھر عشاق کا قلبِ تپاں ہے
خدا فرمانروا ہم سب کا حاکم خدا کی نعمتیں بے انتہا ہیں خدا کا شکر ہم کرتے ہیں کم کم
بھنور نے سطحِ دریا پر اُبھارا لبِ ساحل خدا لے آیا مجھ کو کیا منجدھار میں پیدا کنارا
یہ امن و آشتی کا ترجماں ہے یہی گھر منزلِ انسانیت ہے یہ اِنسانوں کی وحدت کا نشاں ہے
خدا ہرگز نہیں سرِ نہاں ہے ظفرؔ یاں سر خمیدہ، دم کشیدہ یہ بیت اللہ عظمت کا جہاں ہے
میری پرواز ہے کون و مکاں پر فقیر راہ بیٹھا ہے زمیں پر تخیل ہے ظفرؔ کا آسماں پر