خدا تیرے دل و جاں میں بسا ہے
ترے کانوں میں بھی رس گھولتا ہے نمازوں میں خدا کو دیکھ تو بھی تجھے تیرا خدا تو دیکھتا ہے
معلیٰ
ترے کانوں میں بھی رس گھولتا ہے نمازوں میں خدا کو دیکھ تو بھی تجھے تیرا خدا تو دیکھتا ہے
خدا انسان کے دل میں مکیں ہے خدا موجود ہر جا، ہر کہیں ہے خدا سا مہرباں کوئی نہیں ہے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے خدا مُونس شفیق و مہرباں ہے خدا دِل کا سکوں آرامِ جاں ہے
جو رحمت کا محبت کا جہاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے وہ جو ہے بے سہاروں کا سہارا، جو طوفاں میں کرے پیدا کنارا وہ جو ننگے سروں پر سائباں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے
تو غفور ہے تو رحیم ہے تو حلیم ہے تو کریم ہے تو حکیم ہے تو عظیم ہے
کوئی ناصر نہ مُونس تیرے جیسا، خداوندا تو ہم پہ رحم فرما ترے محبوب کی اُمت پریشاں، بھنور طوفان میں غلطاں و پیچاں ہے ساحل دُور اوجھل ہے کنارا، خداوندا تو ہم پہ رحم فرما
ترے جُود و سخا کا غلغلہ ہے تو قطرے کو بنا ڈالے سمندر ظفرؔ تیری عطائیں جانتا ہے
مرے مولا مجھے اپنی خبر دے دل و جاں میں تجھے محسوس کر لوں مری آہوں میں اتنا تو اثر دے
عظیم الفاظ میں لاؤں کہاں سے خیالوں میں خدا کی حمد لکھوں کروں پیشِ خدا، سوزِ نہاں سے
مشیت ایزدی ہے یہ، یہی فرمانِ قرآں ہے کرو خدمت فقیروں کی، دریدہ جن کا داماں ہے نہ اِنسانوں کے کام آئے، ظفرؔ تو کیسا انساں ہے ؟