کرم فرمائی رب کی بیشتر ہے
مُقدر کا ستارہ اوج پر ہے جھُکا ہوں میں خدا کی بارگاہ میں مرا قلبِ حزیں ہے چشمِ تر ہے
معلیٰ
مُقدر کا ستارہ اوج پر ہے جھُکا ہوں میں خدا کی بارگاہ میں مرا قلبِ حزیں ہے چشمِ تر ہے
نہیں روزی رساں کوئی خدا سا وہی اعلیٰ و ارفع محتشم ہے نہیں عظمت نشاں کوئی خدا سا
نہیں عقدہ کشا کوئی خدا سا بھرے جاتے ہیں سب کے خالی داماں نہیں حاجت روا کوئی خدا سا
نہ شان عالی، نہ عالی بخت مانگو خدا سے بس خدا و مصطفیٰؐ کی محبت ہر گھڑی ہر وقت مانگو
نہ دولت مال سے، نہ سیم و زر سے شہنشاہوں نہ سلطانوں کے در سے سکوں پایا ظفرؔ اللہ کے گھر سے
مکرم ہے خدا ہی محتشم ہے وہی ستّار بھی غفار بھی ہے خطا کاروں کا وہ رکھتا بھرم ہے
محبت ہو اگر بین المذاہب، بین الاقوامی ظفرؔ انسان آپس میں ملیں مہرو محبت سے فضائیں امنِ عالم کی رہیں قائم دوامی
مرے لب پر سدا ہے اسمِ اعظم مرے دل کی ندا ہے اسمِ اعظم ظفرؔ اسمِ خدا ہے اسمِ اعظم
کہ جیسے ہم کلامی ہو خدا سے کرو اللہ سے اظہارِ محبت نوازے گا وہ رحمت کی رِدا سے
بنے سارے جہاں اللہ اکبر کئے تخلیق رب نے سارے عالم ظفرؔ کون و مکاں اللہ اکبر