سدا وردِ زباں اللہ اکبر
صدائے جسم و جاں اللہ اکبر مرے دل میں نہاں اللہ اکبر مرے لب پر عیاں اللہ اکبر
معلیٰ
صدائے جسم و جاں اللہ اکبر مرے دل میں نہاں اللہ اکبر مرے لب پر عیاں اللہ اکبر
جسے روزی رساں گردانتا ہے اِرادوں سے ہمارے ہے وہ آگاہ دِلوں کے بھید بھی وہ جانتا ہے
کرم کا سائباں میرا خدا ہے میں تپتی دھوپ میں بھی پرسکوں ہوں ظفرؔ سایہ کناں میرا خدا ہے
رسائی ہو مری تجھ تک، رہِ آسان دے دے مجھے جذب و جنون و آگہی، ایقان دے دے ظفرؔ کو بھی تو اپنی ذات کا عرفان دے دے
خداوندِ ملائک اِنس و جاں تو خداوندِ زمین و آسماں تو خداوندِ مکان و لامکاں تو
تمہیں ہو بے سہاروں کا بڑا محکم سہارا تمہیں نے کام ہر اِک بے نواؤں کا سنوارا نحیفوں پر ترا لطف و کرم ہے آشکارا
خدا اعظم عظیم اعلیٰ و ارفع خدا داتا، خدا آقا و مولا خدا حامی و ناصر ہے ظفرؔ کا
خدا ہی صاحبِ جود و سخا ہے عطا کر دی مجھے اپنی محبت یہ ہے فضلِ خدا، فیض و عطا ہے
خدا موجود ہر جا ہر کہیں ہے ظفرؔ جو بھی جہاں سجدہ کناں ہے مُنور اُس کا دل روشن جبیں ہے
خدا ہی داتا و رازق ہے سب کا خدا کے زیرِ فرماں سب زمانے خدا ہی مولا و مالک ہے سب کا