خدا کے حمد گو کوہ و بیابان و سمندر بھی
قطب ابدال بھی سارے، خدا کے سب پیمبر بھی تمامی اولیاء بھی اور مجذوب و قلندر بھی سبھی راہرو مسافر بھی، سپہ سالار رہبر بھی
معلیٰ
قطب ابدال بھی سارے، خدا کے سب پیمبر بھی تمامی اولیاء بھی اور مجذوب و قلندر بھی سبھی راہرو مسافر بھی، سپہ سالار رہبر بھی
خدا کی حمد میں ہر دم مگن ہوں، سرور و کیف ہے وارفتگی ہے میں مصروفِ ثناء صبح و مسا ہوں، خدا کی حمد سے دِبستگی ہے ظفرؔ کو یوں کیا سیراب رب نے، رہی باقی نہ کوئی تشنگی ہے
حبیبِ کبریا کی بات کہنا پذیرائی بھی ہو گی انشاء اللہ ظفرؔ حمد و ثناء دِن رات کہنا
فضاؤں میں، خلاؤں میں، زمین و آسماں میں دلاسہ دے وہی مغموم دل، قلبِ تپاں کو گزر اُس کا ظفرؔ اکثر قلوبِ عاشقاں میں
خدا ربِّ جہاں، عظمت نشاں ہے خدا موجود ہر انساں کے دل میں خدا ہی قبلہ گاہِ عاشقاں ہے
خدا موجود ہر منظر عیاں میں خدا موجود ہر اک روح و جاں میں خدا موجود ہر قلبِ تپاں میں
مجھے بھرپور ذوقِ بندگی دے سرِ محشر ظفرؔ کی لاج رکھ لے نہ پیشِ مصطفیٰ شرمندگی دے
پڑے ہیں ٹھوکروں میں جو، اُنہیں بڑھ کر اُٹھا لو ہیں جو روٹھے ہوئے احباب، تم اُن کو منالو نہیں کوئی بھی جن کا، اُن کو تم اپنا بنا لو
ہر اِک گھر میں ہے وہ ہر آشیاں میں ہر اِک غنچہ و گل، ہر گلستاں میں خلاؤں میں خدا، کون و مکاں میں
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے خدا حاجت روائے اِنس و جاں ہے محبت کا جہاں ہے، مہرباں ہے