حرم کو جانے والو جا کے واں رب کو منالو
نحیف و ناتواں ہمسائے کو بھی تو سنبھالو جو مُنہ کے بل گرا ہے اُس کو بھی تھامو اُٹھا لو مرا جاتا ہے جو فاقے سے اُس کو بھی بچا لو
معلیٰ
نحیف و ناتواں ہمسائے کو بھی تو سنبھالو جو مُنہ کے بل گرا ہے اُس کو بھی تھامو اُٹھا لو مرا جاتا ہے جو فاقے سے اُس کو بھی بچا لو
جو حوریں گیت گاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی جو موجیں گنگناتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی جو کرنیں جگمگاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی
جو انسانوں پہ جور و ظلم ڈھائے ہے ایسا شخص ننگِ آدمیت خدا کے صبر کو جو آزمائے
خدا کے گھر کی رونق روز افزوں بیشتر ہے خدا کے گھر میں توسیع کی سعی جو کر رہے ہیں خدا ہی رہنما اُن کا، خدا ہی راہبر ہے
اُسی کے حکم کا سکہ زمانوں میں رواں ہے خدا کی حمد سے پہلے سمجھ لے، سوچ لے ناداں خدا کے ذکر کے قابل ظفرؔ تیری زباں ہے ؟
خدا ہی سب کا رازق ہے خدا ہے خدا کے زیر فرماں سب زماں ہیں ظفرؔ وہ سب کا مالک ہے خدا ہے
خدا کی حمد میں مسرُور ہوں میں مرے پیشِ نظر ہے خانہ کعبہ خدا کے فیض سے معمور ہوں میں
میں نخلِ خشک ہوں گرچہ، مرا دل تو ہرا ہے میں چلتا پھرتا لاشہ ہوں، ظفر طرفہ تماشا ہوں حبیبِ کبریا کے در پہ، دل میرا دھرا ہے
محبت، عشق سے قلبِ تپاں سے وفورِ شوق سے، حُسنِ بیاں سے کرو باتیں خدائے مہرباں سے
بنا کر آپ کو سردارِ اُمت، خدا نے عظمتیں بخشی ہیں کیا کیا شبِ معراج پاس اپنے بُلا کر، فلک پر خلوتیں بخشی ہیں کیا کیا مری سرکار کو اپنا بنا کر، خدا نے رفعتیں بخشی ہیں کیا کیا