خدا میرا زمانوں کا خدا ہے
خدا سارے جہانوں کا خدا ہے خدا معبود مخلوقات کا ہے خدا سب آستانوں کا خدا ہے
معلیٰ
خدا سارے جہانوں کا خدا ہے خدا معبود مخلوقات کا ہے خدا سب آستانوں کا خدا ہے
خدا کا سب زمانوں پر کرم ہے خدا کا نُور برسے قلب و جاں پر خدا کے فضل سے ہی دم میں دم ہے
کرے مظلوم کی مشکل کشائی ظفرؔ ہو مہرباں اُس پر خدا بھی ہو اُس پہ مہرباں ساری خدائ
رسولِ پاک کی مِدحت، خدا کا حکم ہے یہ کرو انسان کی خدمت، خدا کا حکم ہے یہ کرو جاری سخاوت، خدا کا حکم ہے یہ
خدائے اِنس و جاں سر پر ہے میرے نہیں خائف ظفرؔ حاسد کے شر سے خدائے مہرباں سر پر ہے میرے
کرم اُس کا سدا جاری و ساری کرے ابرِ کرم سے آبیاری چلائے حبس میں بادِ بہاری
نہ پہنچیں گر حبیبِ کبریا تک خدا تک راہبر ہیں، رہنما ہیں وہ پہنچاتے ہیں انساں کو خدا تک
نہ خوف جور و استبداد رکھنا دلِ مضطر ظفرؔ یوں شاد رکھنا سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
خدائے پاک کی جود و سخا اللہ اکبر کرم رب کا، عطائے کبریا اللہ اکبر خدائی کا یہ پیہم سلسلہ اللہ اکبر
رفو کر دے دریدہ میرا داماں ظفرؔ کو کر عطا رزقِ فراواں بنا دے اُس کو ہم دردِ غریباں