فرشتہ تو نہیں انسان ہوں میں
کلیمِ عشق کا دربان ہوں میں مرے دِل میں سمایا عشقِ ربی ظفرؔ عشاق کی پہچان ہوں میں
معلیٰ
کلیمِ عشق کا دربان ہوں میں مرے دِل میں سمایا عشقِ ربی ظفرؔ عشاق کی پہچان ہوں میں
محبت کا جہاں آباد رکھنا نکالے گا وہی ہر ابتلاء سے ظفرؔ لب پر نہیں فریاد رکھنا
گنہگاروں کا تُو غفار بھی ہے تہی دستوں کا پالن ہار بھی ہے دلِ بیمار کا دل دار بھی ہے
نظر کے سامنے ہر دم حرم ہے جلالِ کبریا، جاہ و حشم ہے ظفرؔ کی اشک افشاں چشمِ نم ہے
شعور و آگہی، عرفان بخشا ملایا جس نے بندوں کو خدا سے وہ رہبر حاملِ قران بخشا
نگہبان و محافظ ہے ہماری خدائی رحمتوں کا سلسلہ ہے ازل سے تا ابد جاری و ساری
خدا میرا ہے معبودِ خلائق، وہ مسجودِ ملائک، اِنس و جاں ہے خدا ستار بھی غفار بھی ہے، خدا میرا خلیق و مہرباں ہے خدا ہی چارہ ساز و چارہ گر ہے، خدا کے زیر فرماں ہر جہاں ہے
مَیں خوشبوئیں لگاتا ہوں، لباس اُجلا پہنتا ہوں خدا کرتا عطا ہے جب وصال و جذب کی حالت ظفرؔ مرمر کے جیتا ہوں، کبھی جی جی کے مرتا ہوں
خدا کے لطف کی برسات لکھوں ثناء و حمد کے کلمات لکھوں حبیبِ کبریا کی بات لکھوں
جمالِ کبریا کے ترجماں ہیں، ہر اِک غنچہ و گل، صحنِ گلستاں خدا کے نور کا پرتو ہیں، خورشید و مہ و انجم فروزاں خدائے مہرباں اُمت پہ ہو تیرا کرم، ہر دم فراواں