خدا کی عظمتوں کے استعارے
فروزاں چاند، تابندہ ستارے خدا کے نُور سے روشن ظفرؔ ہیں ہمارے جسم و جاں، دل بھی ہمارے
معلیٰ
فروزاں چاند، تابندہ ستارے خدا کے نُور سے روشن ظفرؔ ہیں ہمارے جسم و جاں، دل بھی ہمارے
کہ رُخ میرا سدا سوئے حرم ہے ظفرؔ خانۂ کعبہ محتشم ہے خمیدہ سر یہاں عرب و عجم ہے
زمیں بھی ناز کرتی، آسماں بھی ناز کرتا ہے ظفرؔ ساری خدائی بھی خدا پر ناز کرتی ہے محمد پر خدائے مہرباں بھی ناز کرتا ہے
ہر اِک رازِ نہاں عشاق پر واضح عیاں ہو گا یہ انسانوں کی خدمت میں ہمیشہ منہمک ہوں گے خدائی مہرباں ہو گی، خدا بھی مہرباں ہو گا
خدا کی یاد میں آنسو بہاتا، مسکراتا ہوں مَیں جب نُورِ خدا کی ایک ہلکی سی کرن دیکھوں خوشی کے شادیانے بے خودی میں مَیں بجاتا ہوں
خدا کا نُور اُس گھر میں عیاں ہو وہ گھر دار الشفا، دار الاماں ہو خدا کی عظمتوں کا ترجماں ہو
مرا ایمان محکم ہی، مرے ہر دُکھ کا درماں ہے مرا ایمان میری مغفرت، بخشش کا ساماں ہے خدا کا شکر جو کرتا نہیں، کم ظرف انساں ہے
سبھی طبقاتِ کائنات کا ہے وہی رہتے ہیں مصروفِ عبادت کرم جن پر خدا کی ذات کا ہے
جمالِ مصطفیٰ اللہ اکبر خدا کے ہم نوا و ہم نشیں ہیں حبیبِ کبریا اللہ اکبر
میری خطائیں بے شمار ترے کرم کی خواستگار میری چشمِ اشک بار