تو خبیر ہے تو علیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
تُو رؤف ہے تو رحیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے تُو حلیم ہے تو حکیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے تُو ظفرؔ کا ربِ کریم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
معلیٰ
تُو رؤف ہے تو رحیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے تُو حلیم ہے تو حکیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے تُو ظفرؔ کا ربِ کریم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے
بڑا واضح نظامِ زندگانی ہے فنا فی اللہ ہی واحد راستہ ہے اگر چاہے دوام زِندگانی ہے
اندھیری چاند راتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم بوقتِ حمد ہر لحظہ، ظفرؔ سجدے میں سررکھنا حبیب اللہ کی باتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
بھنور نے اُس کو فوراً سطحِ دریا پر اُبھارا ہے کیا طوفاں نے اُس کے واسطے پیدا کنارہ ہے لبِ ساحل اُسے لایا کرم کا بہتا دھارا ہے
جہاں سارے خدا کے حمد گو ہیں، زماں سارے خدا کے حمد گو ہیں سمندر میں خدا کی حمد جاری، فضاؤں میں خدا کی حمد جاری نہاں سارے خدا کے حمد گو ہیں، عیاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
مرا خدا انیس ہے، مرا خدا کریم ہے مرا خدا غفور ہے، مرا خدا حلیم ہے مرا خدا عظیم ہے، مرا خدا عظیم ہے
ثمر، غنچہ و گل، تازہ ہوا ہیں کوئی اِن کو ظفرؔ جھٹلائے کیسے خدا کی نعمتیں بے انتہا ہیں
بوٹیاں کھا جائیں گے سب شوربہ رہ جائے گا کوئے جاناں کے لگا چکر نہ اتنے ورنہ پھر چلتے چلتے تیرے جوتے کا تلا رہ جائے گا کم یا زیادہ بولنا دونوں مضر ہیں دیکھ لے یا گلہ رہ جائے گا یا پھر گلا رہ جائے گا فیس لے لے گا تو کیا آنکھیں دکھائیں […]
ہمارا مسئلہ معدوم کی وضاحت ہے مجھے بھی ناؤ میں گننے کا شکریہ لیکن قریب کا یہ جزیرہ برائے خلقت ہے یہ کچے سیب چبانے میں اتنے سہل بھی نہیں ہمارا صبر نہ کرنا بھی ایک ہمت ہے ہیں نرخ ایک سے بازارِ حسن و حرمت کے وہی بدن کی وہی پیرہن کی قیمت ہے […]
آپ سے جس کو پیار رہتا ہے اِک قدم میرے دِل میں میرے حضور ہجر میں بے قرار رہتا ہے عاشقوں کے دِلوں میں بستا ہے حُسن یوں پردہ دار رہتا ہے کتنا خوش بخت ہے وہ عاشق جو جان و دِل اُن پہ وار رہتا ہے ہم فقیروں پہ اُن کا لُطف و کرم […]