نبی کا پیار مانگوں میں خُدا سے

خُدا کا پیار مانگوں مصطفی سے خُدا سے پیار کرنے کا قرینہ کوئی سیکھے امام الانبیا سے شہِ کون و مکاں، محبوبِ یزداں نبی آخر زماں ہیں ابتدا سے نہیں ہے کوئی بھی بڑھ کر اثاثہ مرا، عشقِ حبیبِ کبریا سے جبیں میں نے جھُکائی سن کے فوراً درودوں کی صدا، غارِ حرا سے نبی […]

نبی کا آستاں پیشِ نظر ہے

محبت کا جہاں، پیشِ نظر ہے درِ اقدس پنہ گاہِ غریباں درِ دارالاماں پیشِ نظر ہے حبیبِ کبریا، محبوبِ یزداں خُدا کا ترجماں، پیشِ نظر ہے میں زندہ ہوں بفیضانِ محمد مسیحائے زماں، پیشِ نظر ہے کیے جاتا ہوں میں سجدوں پہ سجدے کفِ پا کا نشاں، پیشِ نظر ہے میں گریاں ہوں، کہ دشتِ […]

میں سو جاؤں سکوں پاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے

میں چُوموں آپ کے پاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے میں جاؤں نالاں و گریاں، میں جاؤں خیزاں و اُفتاں کبھی نہ لوٹ کر آؤں، مُجھے سرکار کے قدموں میں نیند آئے ملیں جو راہ میں نقشِ کفِ پا واں پہ سر رکھوں میں در تک سر بسر جاؤں، مُجھے سرکار کے قدموں […]

مڑ کے تکتے نہیں پتوار کو لوگ

ایسے جاتے ہیں ندی پار کو لوگ میں تو منزل کی طرف دیکھتا ہوں دیکھتے ہیں مری رفتار کو لوگ سائے کا شکر ادا کرنا تھا سجدہ کرتے رہے دیوار کو لوگ آئنہ میرے مقابل لائے خوب سمجھے مرے معیار کو لوگ نام لکھتے ہیں کسی کا لیکن دکھ بتاتے نہیں اشجار کو لوگ صبر […]

مرے آقا، کرم مُجھ پر خُدارا

ہو لللّٰہ ایک رحمت کا اشارا نگاہِ لُطف و رحمت مُجھ گدا پر تمھی ہو رحمتوں کا بہتا دھارا مجھے غرقاب ہونے سے بچا لیں کریں گرداب میں پیدا کنارا بہ احوالِ خرابِ ما نظر کُن عطا کُن، عشق و مستی بے نوا را جھلک سرکار کی دیکھی ہے جب سے نہیں اب ہجر میں […]

مری سرکار کا جلوہ عیاں ہے

سرور و کیف و مستی کا سماں ہے چلو چلتے ہیں دربارِ نبی میں خُدا کا فضل بے پایاں وہاں ہے ملے گی اُن کے در سے رہنمائی نہیں تشکیک نہ کوئی گماں ہے ہے اُن کا در پناہ گاہِ غریباں فقیروں کے لیے دارالاماں ہے جھُکاتا ہوں میں سر آقا کے در پر جہاں […]

محمد، با خُدا، پیشِ نظر ہے

حبیبِ کبریا پیشِ نظر ہے وہی جلوہ نما، کون و مکاں میں وہی افلاک پر بھی جلوہ گر ہے اُنھی سے نور کی خیرات لے کر ہے روشن شمس، تابندہ قمر ہے وہی ہے رہنمائے گمرہاں بھی وہی سب رہبروں کا راہبر ہے وہی ہے بے سہاروں کا سہارا وہی بے چارگاں کا چارا گر […]

محبتوں میں نئے طرز انتقام کی شام

کسی کے ساتھ گزاری کسی کے نام کی شام ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کا گزر گئ ہے سفر میں مرے قیام کی شام نہ کوئی خواب دکھایا نہ کوئی عہد کیا بدن ادھار لیا بھی تو اس سے شام کی شام مسافروں کے لیے دشت کیا سرائے کیا ہمیں تو ایک سی لگتی […]

محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے

نہ ہو جب تک حبیبِ کبریا سے خُدا رزاق ہے، دیتا ہے روزی مگر سرکار کے دستِ عطا سے گداؤں کو خزائن مل رہے ہیں درِ حضرت محمد مصطفی سے نواسوں سے مؤدت آپ کو تھی محبت، فاطمہؓ خیر النساء سے علم عباسؓ کا اُونچا رہے گا صدا آتی ہے دشتِ کربلا سے فروتر، ہیچ […]

محبت کیجیے ربّ العلیٰ سے

محبت کیجے محبوبِ خُدا سے عطا کرتے ہیں آپ اپنی محبت اگر مانگے کوئی صدق و صفا سے خُدا کی نعمتیں ملتی ہیں ساری درِ خیر البشر خیر الوریٰ سے خُدائے پاک نے اُن کو نوازا مُروّت، حِلم سے، جُود و سخا سے شبِ معراج، معراجِ محبت بظاہر ابتدا، غارِ حرا سے کٹا لیتے ہیں […]