یہ جُود و کرم آپ کا ہے، فیض و عطا ہے

سُوکھا ہوا اک پیڑ ہرا پھر سے کیا ہے الطاف و عنایاتِ خُدا، عشقِ محمد سب کچھ ہے مرے پاس، یہ سب اُن کا دیا ہے محبوب کی خاطر ہی بنایا گیا سب کچھ محبوب خُدائی کا، وہ محبوبِ خُدا ہے تاریک جہاں سارے ہوئے جس سے مُنوّر سرکار کے انوار کا روشن وہ دیا […]

ہم اُن کے آستاں تک دِل گرفتہ، دِلفگار آئے

سُبک سر ہو کے لوٹے، بوجھ سب سر سے اُتار آئے لباسِ فاخرہ پہنایا، اُن کا بھر دیا دامن درِ سرکار پر جو، لے کے دامن تار تار آئے وہی ہم غم کے ماروں، غم زدوں کے آقا و مولا وہی ہمدرد و مُونس، چارہ ساز و غم گُسار آئے نئی اک زندگی لے کر […]

گھِرے طُوفاں میں ہیں، نظرِ کرم سرکار ہو جائے

توجہ آپ فرمائیں، تو بیڑا پار ہو جائے کرم کی اک نظر آقا مرے دِل کی ہر اک دھڑکن محبت، کیف و مستی، عشق سے سرشار ہو جائے مجھے رکھنا ہمیشہ اپنے ہی حلقہ بگوشوں میں ہیں مرکز آپ، میری زندگی پُرکار ہو جائے چھپا لینا مرے آقا مجھے دامانِ رحمت میں مرا جب دُشمنِ […]

گدائے بے نوا ہے، اُن کا در ہے

طلب سے بھیک پائی بیشتر ہے مری سرکار کے نقشِ قدم سے فروزاں عاشقوں کی رہگزر ہے گیا گمنام جو آقا کے در پہ وہاں سے جب وہ لوٹا نامور ہے چلو چلتے ہیں اُس عاشق سے ملنے مدینہ سے جو آیا لوٹ کر ہے بوقتِ امتحاں ثابت قدم ہے علیؓ شیرِ خُدا کا، وہ […]

کوئے محبوب کی گدائی ملے

درِ سرکار تک رسائی ملے آپ کے در سے، آپ کے گھر سے علم و عرفان و پارسائی ملے رہ گم گشتگاں کو ہر لمحہ آپ کے در سے رہنمائی ملے کعبۃ اللہ، جلال کا مظہر آپ کے در سے دِلکشائی ملے صوت و آہنگ و حرف و معنی کو ذِکرِ احمد سے خوش نوائی […]

کریں منظور میری التجائیں یا رسول اللہ

مُجھے آپ اپنا دیوانہ بنائیں یا رسول اللہ مجھے اب نعمتِ دیدار سے سیراب کر ڈالیں رُخِ زیبا مجھے بھی اب دکھائیں یا رسول اللہ رُخِ روشن کی گر عُشاق ہلکی سی جھلک دیکھیں ہمیشہ نعت و مِدحت گنگنائیں یا رسول اللہ جہاں پر آپ کے نقشِ قدم عُشاق نے دیکھے وہیں عُشاق اپنا سر […]

کرم فرما، خُدائے مصطفی ہے

کرم فرما، حبیبِ کبریا ہے وہی جو رحمۃ اللعالمیں ہے وہی سرکار، محبوبِ خُدا ہے ہمیشہ سے ہے حمد و نعت جاری ازل سے تا ابد یہ سلسلہ ہے مری نعتوں میں اظہارِ عقیدت ہے اظہارِ محبت، برملا ہے زیارت خواب میں ہوتی ہے مُجھ کو رُخِ زیبا، مُنوّر، دِلرُبا ہے فزوں تر ہو مرا […]

پُرسکوں زندگی مدینے میں

غم ہی غم، دُور رہ کے جینے میں وہ جہاں بھر کی خوشبوؤں میں کہاں جو مہک آپ کے پسینے میں اُن پہ سرکار کی ہے نگہِ کرم عشقِ احمد ہے جن کے سینے میں اُن کو دیتے ہیں راستا طوفاں جو ہیں سرکار کے سفینے میں آپ کا پیار روز افزوں ہے نِت اضافہ […]

پلنگ ایک الگ لحاف

قبولیت نہ انحراف بچھڑنا چاہئے ہمیں تو یوں کہو نا صاف صاف اگر تو تیغ پھینک دے تجھے مرا لہو معاف ادھر ذرا سی بات کی ادھر کسی کا موڈ آف میں اس کی جیب کا بٹن وہ میرے ہاتھ کا شگاف اتر کے جھیل میں بھی ہم ہیں زیرِ آب ناف ناف پرانی آشنائی […]

وہ لَوٹا ہے درِ سرکار سے، پا کر شفا دیکھو

جو آیا آپ کے در پر، مریضِ لا دوا دیکھو خطا کاروں کے ہادی وہ، عطاؤں کے سمندر ہیں خطائیں دیکھنے والو! عطائے مصطفی دیکھو وہ آہیں تک بھی سنتے ہیں صدائیں سب کی سنتے ہیں ادب سے دھیمے لہجے میں، ذرا دے کر صدا دیکھو دعائیں مانگنے سے پہلے، یاں منظور ہوتی ہیں وضو […]