محبت کا جہاں آباد مولا

کروں میں تم سے ہی فریاد مولا ترے محبوب کی اُمت پریشاں تری مخلوق ہے ناشاد مولا خُدایا! پھر سے شاد آباد کر دے جو ہیں بے خانماں برباد مولا مظالم سہتے سہتے عمر گزری تُو کر دے رنج سے آزاد، مولا رہے حمدِ خُدا میری زباں پر رہے دِل میں نبی کی یاد مولا […]

سرورِ قلب و جاں، اللہ ہی اللہ

کہاں تُو، میں کہاں، اللہ ہی اللہ نہاں یادِ خُدا ہے دِل میں میرے عیاں وردِ زباں، اللہ ہی اللہ طیور و جن و انسان و ملائک سبھی رطبُ اللساں، اللہ ہی اللہ تمامی اولیاء بھی، انبیاء بھی کریں ہر دم بیاں، اللہ ہی اللہ ہوئے تخلیق پل میں سارے عالم صدائے کُن فکاں، اللہ […]

زمین و آسماں اُس کے، مکان و لامکاں اُس کے

سمندر، کوہ و بن اُس کے، ہیں دریائے رواں اُس کے اُسی کی سب ہوائیں، سب فضائیں، سب خلائیں ہیں خزائن جتنے ہیں زیرِ زمیں، مخفی، نہاں، اُس کے نگہباں ہے وہی سب کا، وہی سب کا محافظ ہے سبھی معصوم بچے بھی، سبھی پیر و جواں اُس کے وہی ہے خالقِ دنیا، وہی ہے […]

راہ نزدیک بکویش بوَد از خود رفتن

ہر کہ برخاست ز خود بر درِ دلدار نشست اُس کے کوچے کی راہ خود کو بُھلا دینے (اور اپنی خودی کو ختم کرنے) کے قریب ہی ہوتی ہے ہر کوئی کہ جو اپنے آپ سے اُٹھا وہ پھر دلدار کے در پر ہی بیٹھا (سو مُراد پوری ہوئی)

خُداوندِ کون و مکاں، اللہ اللہ

خُدائے نہاں و عیاں، اللہ اللہ کیے جس نے تخلیق سارے زمانے وہ صوت و صدا کُن فکاں، اللہ اللہ خُدا کی خُدائی کے عکاس و مظہر زمیں، آسماں، کہکشاں، اللہ اللہ یہ دشت و جبل، بحر و بر، چاند تارے پکاریں سبھی اِنس و جاں، اللہ اللہ ہر اک طائرِ خوشنوا، غنچہ و گُل […]

خُداوندِ مکان و لا مکاں ہے

خُداوندِ زمین و آسماں ہے خُداوندِ جہاں، رازِ نہاں ہے حبیبِ کبریا، بس راز داں ہے یہاں ہر چیز فانی، آنی جانی خُدا کی ذات قائم، جاوداں ہے فضا و بحر و بر، ابر رواں میں خُدا کا ذِکر جاری ہے، عیاں ہے خُدا کے ذِکر سے سانسیں رواں ہیں خُدا کی یاد سے ہی […]

خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے

خُدا کا لُطف پیہم ہے، کرم ہے خُدا کی یاد سے دِل کھِل اُٹھا ہے خوشی ہر سُو ہے، اب کوئی نہ غم ہے وہی ہم دم ہے، دم سازِ غریباں کرم فرما ہمیشہ، دم بدم ہے وہ سیدھی رہ دکھائے گُمرہوں کو گنہ گاروں کا بھی رکھتا بھرم ہے

خُدا کا خانہ کعبہ دِل کُشا ہے

حبیب اللہ کا دِل کش حرم ہے جھُکا ہے سر نبی کے آستاں پر ہیں لکھتے نعت آنسو، سر قلم ہے تُو دربانِ حبیبِ کبریا ہے ظفرؔ! تیرا یہ کیا اعزاز کم ہے خُدا کی ذات وہ سِرِّ نہاں ہے جو موجُودات میں واضح عیاں ہے وہی ہے خالقِ کون و مکاں جو مسیحائے ہمہ […]