جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہم

باز آئے ہندِ بد اختر سے ہم مار ڈالے بے قراری شوق کی خوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہی اب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیں ہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیع ڈر چکے […]

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی

کب گوارا ہوئی اللہ کو رِقّت اُن کی ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہگاروں کے ٹوٹے دل کا جو سہارا نہ ہو رحمت اُن کی دیکھ آنکھیں نہ دکھا مہرِ قیامت ہم کو جن کے سایہ میں ہیں ہم دیکھی ہے صورت اُن کی حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ پہ نہیں کچھ موقوف جس نے […]

اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم

فقیروں کے حاجت رَوا غوث اعظم گھرا ہے بَلاؤں میں بندہ تمہارا مدد کے لیے آؤ یا غوث اعظم ترے ہاتھ میں ہاتھ میں نے دیا ہے ترے ہاتھ ہے لاج یا غوث اعظم مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوث اعظم تمھیں دُکھ سنو اپنے آفت زدوں کا […]

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

جو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا اُن کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے جس سے باتیں کیں اُنھیں کا ہو گیا واہ کیا تقریرِ پُر تاثیر ہے جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو خاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے صدرِ اقدس ہے خزینہ راز کا سینہ کی تحریر […]

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی کہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی ہمیں کیا خدا کو ہے اُلفت کسی کی ابھی پار ہوں […]

سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ

کرم کا چشمۂ جاری ہے بارھویں تاریخ ہمیں تو جان سے پیاری ہے بارھویں تاریخ عدو کے دل کو کٹاری ہے بارھویں تاریخ اِسی نے موسمِ گل کو کیا ہے موسمِ گل بہارِ فصلِ بہاری ہے بارھویں تاریخ بنی ہے سُرمۂ چشمِ بصیرت و ایماں اُٹھی جو گردِ سواری ہے بارھویں تاریخ ہزار عید ہوں […]

یہ اکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا

کہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفیٰ کا یہ بیٹھا ہے سکہ تمہاری عطا کا کبھی ہاتھ اُٹھنے نہ پایا گدا کا چمکتا ہوا چاند ثور و حرا کا اُجالا ہوا بُرجِ عرشِ خدا کا لحد میں عمل ہو نہ دیوِ بلا کا جو تعویذ میں نقش ہو نقشِ پا کا جو بندہ خدا کا […]