کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کا

کہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نامِ پاک کی آقا کہ اب تک عرشِ اعلیٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نے نہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا بلاتے ہیں اُسی کو جس کی بگڑی […]

چہ پروا دارم از بے مہریِ گردوں کہ ہر صُبحے

ز داغِ عشق بر دل آفتابے ساکنے دارم میں آسمان¹ کی بے رحمی اور بے مروتی کی کیا پروا کروں کہ ہر صبح میرے دل پر داغِ عشق کی وجہ سے ایک غیر متحرک، ساکن آفتاب چمکتا ہے آسمان¹   کی بے مروتی سے اُس کا متحرک آفتاب غروب ہو جاتا ہے لیکن میرے دل پر […]

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

تو خدا کا خدا ہوا تیرا تاج والے ہوں اِس میں یا محتاج سب نے پایا دیا ہوا تیرا ہاتھ خالی کوئی پھرا نہ پھرے ہے خزانہ بھرا ہوا تیرا آج سنتے ہیں سننے والے کل دیکھ لیں گے کہا ہوا تیر اِسے تو جانے یا خدا جانے پیش حق رُتبہ کیا ہوا تیرا گھر […]

نے دینِ ما بجا و نہ دُنیائے ما تمام

از حق گذشتہ ایم و بہ باطل نمی رسیم نہ تو ہمارا دین (ایمان) مکمل اور مناسب ہے اور نہ ہی ہماری دنیا تمام ہے (دین اور دنیا دونوں ہی مکمل نہیں ہیں)،ہم حق کو تو چھوڑ چکے ہیں اور باطل تک بھی (کسی طور) نہیں پہنچتے بلکہ ان دونوں کے درمیان راستوں ہی میں […]

نیست عارف را نظر بر جلوۂ حُسنِ بُتاں

چشمِ بلبل مستِ دیدارِ گُلِ تصویر نیست حقیقت جاننے والے عارف لوگوں کی نظر حُسنِ بُتاں کے جلوے (ظاہری حُسن) پر نہیں ہوتی جیسے کہ بلبل کی آنکھ تصویر میں بنے ہوئے پھول کے دیدار سے مست نہیں ہے

نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا

مرے یقین نے ہر ایک جا خدا دیکھا مرے شعور کو شاداب کر گیا منظر حرم میں عالم ہستی کا آسرا دیکھا قسم ہے میرے خدا تیری پاک ہستی کی ترے ہی ذکر سے بندوں کو جھُومتا دیکھا ہر ایک آنکھ میں اشکوں کی کیا روانی تھی بڑے بڑوں کو ترے در سے مانگتا دیکھا […]

میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے

مرے خدا مری ہستی کو روشنی دے دے ترے کرم سے میں کعبہ تو دیکھ آیا ہوں مجھے کلام محمدؐ کی دلکشی دے دے تو اپنے پیارے محمدؐ کے نام پر مولا مرے ضمیر کو ملت سے دوستی دے دے ترے کرم کی نہیں مجھ پہ انتہا کوئی مجھے قضائے شہادت کی شاعری دے دے […]

میرے ہر دم میں ترے دم سے بڑا دم خم ہے

میرے ہر دم میں ترا دم ہے مجھے کیا غم ہے میرے اللہ !میں مانگوں تو بھلا کیا مانگوں میری پہچان محمدؐ ہے، بتا کیا کم ہے رات جیون کی، مدین میں بسر ہو جائے تیرے عشاق کے اظہار کا یہ عالم ہے ایک قرآن ہے احسان ترا آدم پر دوسرا عشق اگر ہے تو […]

ملکا، مہا، نگارا، صنما، بُتا، بہارا

متحیرم ندانم کہ تو خود چہ نام داری اے (خوباں کے) سُلطان، اے چاند اے محبوب، اے صنم، اے بُت اے بہار (تجھے میں کس کس نام سے پکارتا ہوں لیکن پھر بھی) حیران ہوں اور نہیں جانتا کہ تیرا اپنا نام کیا ہے