دشمن ہے گلے کا ہار آقا

لُٹتی ہے مری بہار آقا تم دل کے لیے قرار آقا تم راحتِ جانِ زار آقا تم عرش کے تاجدار مولیٰ تم فرش کے با وقار آقا دامن دامن ہوائے دامن گلشن گلشن بہار آقا بندے ہیں گنہگار بندے آقا ہیں کرم شعار آقا اِس شان کے ہم نے کیا کسی نے دیکھے نہیں زینہار […]

در وصل، جمالش گُلِ خندانِ من است

در ہجر، خیالش دل و ایمانِ من است دل با من و من با دل ازو در جنگیم ہر یک گوئیم کہ آں صنم آنِ من است وصل میں، اُس کا جمال میرا ہنستا مسکراتا کھلکھلاتا پُھول ہے۔ ہجر میں اُس کا خیال، میرا دل، میرا دین ایمان ہے دل میرے ساتھ اور میں دل […]

تو آبِ خضرے و من تشنہ ایں کنایت بس

چہ حاجت است کہ دیگر سخن دراز کنم تُو آبِ حیات ہے اور میں پیاسا، (قصہ مختصر) یہ کنایہ، یہ رمز، یہ اشارہ ہی کافی ہے (اور اسی سے سب کچھ سمجھ جا)،مجھے دوسری لمبی لمبی باتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے

تنہا نہ ہمیں دیر و حرم خانہٴ اُوست

ایں ارض و سما تمام کاشانہٴ اُوست عالم ہمہ دیوانہٴ افسانہٴ اُوست عاقل بوَد آں کسے کہ دیوانہٴ اُوست صرف یہ دیر و حرم ہی اُس کے ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ یہ تمام ارض و سماوات اُس کے کاشانے ہیں ساری دنیا اُس کے افسانوں کی دیوانی اور اُن افسانوں میں کھوئی ہوئی ہے لیکن […]

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا

ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہو گا کیا بغیر کیا ، بے کیا کیا ہو گا خدا کا لطف ہوا ہو گا دستگیر ضرور جو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہو گا دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی کہ آپ ہی کی خوشی آپ […]

ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں

میں حمد کہنے کی کیا فکر کامیاب کروں چمن میں چاروں طرف پھول تیرے جلووں کے ہوں کشمکش میں کہ کس گل کا انتخاب کروں تجھے قریب سے دیکھا ہے دل کے کعبے میں ترے جمال کا کیا کیا رقم نصاب کروں میں تیری بندہ نوازی کا معترف ہوں بہت میں آدمی ہوں، خطا کیوں […]

بر گذرم ز نُہ فلک، گر گذری بہ کوئے من

بر گذرم ز *نُہ فلک، گر گذری بہ کوئے من پائے نہم بر آسماں، گر بہ سرم اماں دہی میں نو آسمانوں سے (بھی آگے) گزر جاؤں اگر تُو کبھی میرے کوچے میں سے گزرے اور میرے پاؤں آسمان پر جا پڑیں اگر تو میرے سر کو امان اور اطمینان دے دے نُہ فلک۔ نو […]