دشمن ہے گلے کا ہار آقا
لُٹتی ہے مری بہار آقا تم دل کے لیے قرار آقا تم راحتِ جانِ زار آقا تم عرش کے تاجدار مولیٰ تم فرش کے با وقار آقا دامن دامن ہوائے دامن گلشن گلشن بہار آقا بندے ہیں گنہگار بندے آقا ہیں کرم شعار آقا اِس شان کے ہم نے کیا کسی نے دیکھے نہیں زینہار […]