بر زمینِ دل سحابِ عشق می بارد سخن
فیض عاشق شو اگر خواہی سخن گستر شدن دل کی زمین پر، عشق کا بادل سخن کا مینہ برساتا ہے اے فیض اگر تُو سخنور و شاعر ہونا چاہتا ہے تو پھر عاشق ہو جا
معلیٰ
فیض عاشق شو اگر خواہی سخن گستر شدن دل کی زمین پر، عشق کا بادل سخن کا مینہ برساتا ہے اے فیض اگر تُو سخنور و شاعر ہونا چاہتا ہے تو پھر عاشق ہو جا
یوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا طلعت سے زمانے کو پُر انوار بنایا نکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا دیواروں کو آئینہ بناتے ہیں وہ جلوے آئینوں کو جن جلوؤں نے دیوار بنایا وہ جنس کیا جس نے جسے کوئی نہ پوچھے اُس نے ہی مرا تجھ کو خریدار بنایا اے نظم رسالت کے […]
یا رب چہ شود اگر مرا گیری دست گر در عملم آنچہ ترا شاید، نیست اندر کرمت آنچہ مرا باید، ہست گناہوں کے بوجھ سے مجھ مسکین کا تن پست ہو چکا ہے یا رب کیا ہو اگر تُو اس حالت میں میری دست گیری کرے کیونکہ اگر میرے عملوں میں وہ کچھ نہیں ہے […]
شاید کہ در کنارِ تو باشد، سراغ کن وہ گوہرِ مُراد کہ جو نظروں سے غائب ہے (اور جس کی آرزو میں زندگیاں گزر جاتی ہیں) شاید کہ تیرے پہلو ہی میں ہو، ذرا سراغ تو لگا
خارم بہ چمن نازد، عیبم بہ ہنر خندد تُو اگر میرے حال پر ایک اُچٹتی ہوئی نظر بھی ڈال دے تو میرے کانٹے چمن پر ناز کریں اور میرے عیب ہنر پر مسکرائیں
عیبِ دیگراں پوشد، بندۂ خدا ایں است اپنے عیبوں کو دیکھتا ہے، دُنیا کی طرفسے اپنی آنکھیں بند رکھتا ہے اور دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے، اصل بندۂ خدا تو یہ ہے
محتاجِ برادراں و خویشاں نشوم بے منتِ خلق خود مرا روزی دہ تا از درِ تو بر درِ ایشاں نشوم یا رب، تُو ایسا کرم کر میں پریشان نہ ہوں اور در در مارا مارا نہ پھروں اور برادران اور اپنے (بیگانوں) کا محتاج نہ ہو جاؤں۔ لوگوں کا احسان اُٹھائے بغیر، تو مجھے خود […]
دنیا کے رنگ و بو میں قائم نظام تیرا تو لا شریک خالق، رحمت وہ دوجہاں کا جس ذات بے بدل پر اترا کلام تیرا مومن پہ تیری رحمت برسی، برس رہی ہے بے دین پر کرم بھی ہوتا ہے عام تیرا گوشۂ مری نظر میں ایسا نہیں ہے کوئی ہوتا نہیں ہے جس جا، […]
دیکھے تو مجھ کو نارِ جہنم لگا کے ہاتھ منظر نظر کے سامنے ہوتا ہے نور کا لیتا ہوں جب بھی نام مدینہ اُٹھا کے ہاتھ میرے نبی کے حسن میں کعبے کا نور ہے جاتے ہیں اُس کی دید کو عاشق کٹا کے ہاتھ لب پر مرے درودِ محمد ہو اُس گھڑی زنجیر زندگی […]
بڑے احساں ہیں، اس انسانِ کامل کے ہر انساں پر شہہ والا کا دیوانہ ہوں، یہ اعزاز کیا کم ہے محبت ناز کرتی ہے مرے چاکِ گریباں پر مدینے کی فضاؤں میں مہک تازہ گلوں کی ہے بہارِ خلد حیراں ہے، مدینے کے گلستاں پر ہے دو عالم میں رونق، آمنہ کے لال کے دم […]