ہر کہ می داند شمارِ داغہائے خویش را
نیست روزِ حشر صائب در شمارِ عاشقاں ہر وہ کہ جو اپنے (دل اور سینے پر لگے) داغوں کی تعداد اور گنتی جانتا ہے،اے صائب (یقین جان کہ) روزِ حشر وہ عاشقوں کی گنتی میں نہیں آئے گا
معلیٰ
نیست روزِ حشر صائب در شمارِ عاشقاں ہر وہ کہ جو اپنے (دل اور سینے پر لگے) داغوں کی تعداد اور گنتی جانتا ہے،اے صائب (یقین جان کہ) روزِ حشر وہ عاشقوں کی گنتی میں نہیں آئے گا
اس سے بڑے کرم کا تصور حرام ہے جس دل کے آئینے میں محمد کا نام ہے دوزخ کی آگ اُس پر یقیناً حرام ہے میری حیات ایسے نبی کی غلام ہے جو انبیاء کا عرش بریں پر امام ہے ہے نور کے وجود میں وحدانیت کا راز گفتار مصطفیٰ بھی خدا کا کلام ہے […]
چو مُوسیٰ برسرِ طُور از پئے دیدار می گردم میں اُس کوچے میں سوالی اور فقیروں کی طرح روٹی مانگنے نہیں آتا بلکہ اُس کے کوچے میں اُس کے دیدار کے لیے اُسی طرح گھومتا ہوں جیسے مُوسیٰ کوہِ طُور پر دیدار کے لیے جاتے تھے
مجھ پر مرے خدا کا کرم بے حساب ہے رہتا ہے مرے دل میں خدا اور مصطفیٰ خوشبو مرے وجود میں مثلِ گلاب ہے واحد تو لاشریک تری شان اے خدا تیری تجلیات میں میرے جناب ہے مٹی کے ہر وجود کو کیا کچھ نہیں عطا یہ چاند ، کہکشاں یہ ترا آفتاب ہے ارض […]
وہ لے کے آئے عرب کے صحرا میں پھول بن کر خدا کی خوشبو اَزل اُسی سے، ابد اُسی سے، وہ نورِ اوّل، وہ نور آخر اُسی سے ہے ابتداء کی خوشبو، اُسی سے ہے انتہا کی خوشبو مہک رہی تھیں گلاب کلیاں، تو چاند چودہ کا چھپ گیا تھا گلاب رحمت کا مسکرایا، جہاں […]
مرے اللہ نے جو ہے دیا، قابل کہاں اُس کا مرے اللہ کی ہے تحفتاً مجھ کو عنایت جو جمالِ زندگی میں بندگی، دل کا جہاں اُس کا لگے جب ضرب اللہ ہو، جو سینے میں تو مومن کا بدن شاداب ہو اور کیوں نہ ہو دل شادماں اُس کا میں سجدوں میں دعا مانگوں […]
دئیے دو چار دن جو بھی دئیے اللہ نے میرے ملا ہے جو ملے گا جو، انہی سجدوں کے صدقے گل جبینوں میں ہیں جو سجدے لکھے، اللہ نے میرے میں دیکھوں زندگی میں بندگی سے حسن فطرت کو بدن کی خاک میں رکھے دئیے اللہ نے میرے مرے سپنے تمنائیں، مرے محبوب کے صدقے […]
ہوا بہار کی آنے لگی ہے سینے سے نہا کے دھوپ میں آیا ہوں جب مدینے سے مہک گلاب کی آئے نہ کیوں پسینے سے مرے شعور میں موجود گر نہیں احمد مرے خدا مری تو بہ ہے ایسے جینے سے اُسے حیات کا ساحل نصیب ہو کیوں کر اُتر گیا ہو محمد کے جو […]
ایک ’’اللہ ہو‘‘ مری رحمت کی برکھا لائے گا دیکھنا اُس وقت بھی لب پر مرے حمد و ثنا اس جہاں سے جب کبھی ہجرت کا لمحہ آئے گا میرے دل پر نقش ہے کعبے کے منظر میں خدا اب بھلا اس دشت میں ہے کون جو بہکائے گا ہے مرا ایمان، کر کے ذکر، […]
میری ہر دھڑکن عبادت ہے تری، میرے خدا ہے عطا تیری کہ اب ہے شاعری میری وفا صور اسرافیل کی جب قبر میں آئے ندا آنکھ میں کھولوں تو لب پر ہو درودِ مصطفیٰ تُو تو کہتا ہے، تجھے کوئی نہیں ہے دیکھتا میں نے دیکھا ہے تجھے، اپنے ہی دل میں اے خدا تجھ […]