تو رازق ہے میں اس سے باخبر ہوں

تو خالق ہے میں تیرا اک بشر ہوں میں راہی ہوں ،نبی ہے ساتھ میرے کہا کب ہے خدا میں در بدر ہوں کرم ہو اک ہو فقیر مصطفیٰ پر غلام مصطفیٰ بس مشتہر ہوں مرے معبود ہے اعزاز میرا محمد مصطفیٰ کے دین پر ہوں فلک پر چاند تارے تیری قدرت خدا میں دیکھتا […]

آیا تھا مجھے میرے محمد کا بُلاوا

حمد و مناجات آیا تھا مجھے میرے محمد کا بُلاوا میں گنبد خضریٰ کے نظاروں میں نہایا ہونٹوں پہ مجھے روضۂ اقدس نے ہے چُوما آنکھوں سے مجھے گنبد خضریٰ نے لگایا مدہوش ہوں بیٹھا ہوا میں صحن حرم میں اے ماں !مجھے کیا عشقِ محمد ہے پِلایا کعبہ تو ترا گھر ہے جو معراج […]

آنکھوں میں منور مرے غمخوار کی صورت

اعزاز مجھے نعت ہے اظہار کی صورت میلاد محمد کا ہے اعزاز یہ خالق مہکا ہے جو عالم گل و گلزار کی صورت الفاظ مرے گل ہیں، مہک سانس میں مہکے دل میں ہے محمد مرے گلزار کی صورت دیکھا جو مدینہ ہے، تمنا اُسے دیکھوں صورت کوئی نکلے کئی سوبار کی صورت لاؤ تو […]

یادِ نبی میں گم ہو جانا کتنا اچھا لگتا ہے

گمشدگی میں رستہ پانا کتنا اچھا لگتا ہے ہر دم بھینی بھینی خوشبو ، ہر سو نور کے جلوے ہیں طیبہ کا ماحول سہانا کتنا اچھا لگتا ہے حکم ہے تم دربارِ نبی میں پست رکھو آوازوں کو چپکے چپکے اشک بہانا کتنا اچھا لگتا ہے تسبیحِ اصحاب میں کیا کیا رنگ برنگے موتی ہیں […]

ہر گُل از روئے تو یادم داد و آتش زد بہ دل

ایں ہمہ گُلہا کہ دیدم خار بُودے کاشکے ہر ایک پھول نے مجھے تیرے چہرے کی یاد دلا دی اور میرے دل میں آگ لگا دی اے کاش کہ یہ سارے پھول جو میں نے دیکھے، پھول نہ ہوتے بلکہ کانٹے ہوتے

گفتی ز جنونِ تو و مجنوں چہ تفاوت

رسوائے تو ام، خواہ کم و خواہ برابر تُو نے پوچھا کہ تیرے جنون اور مجنوں کے جنون میں کیا فرق ہے؟ (مجھے کیا علم کہ) مجھے تو تیرے ہی عشق نے رسوا کیا میں تو تیرا ہی رسوا ہوں، اب چاہے میرا جنون مجنوں کے جنوں سے کم ہو چاہے برابر

گر بمستی آرزوئے ابر و باراں می کنم

سنگ می بارد ز ابرِ پنبہ بر مینائے ما اگر کبھی عالمِ مستی میں ابر و باراں کی آرزو کرتا ہوں تو روئی کے گالوں جیسے بادلوں سے بھی میرے جام پر پتھر برسنے لگتے ہیں نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے