کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

رحمۃً للعالمیں تیرا وجود قادرِ مطلق کی وجہِ ناز بھی روزِ روشن کی طرح تیری حیات تو جہاں کا سب سے گہرا راز بھی ہر دلِ بیمار کا تو چارہ گر آدمی کی روح کا نباض بھی تیرے نغموں نے کیا انسان کو قدسیانِ عرش کا دمساز بھی احسنِ تقویم کی برہان تو آدمیت کے […]

محمد مصطفیٰ یعنی خدا کی شان کے صدقے

میں ہر ہر آن یارب انکی ہر ہرآن کے صدقے ہوالاول ہوالآخر ہوالظاہر ہوالباطن میں اس عالی نسب، والا حسب ذیشان کے صدقے خدایا رحم فرما از طفیلِ رحمتِ عالم حبیب اللہ ! نظر کیجو اِدھر رحمان کے صدقے تو اصلِ کائنات و وجہِ تخلیقِ دو عالم ہے جہاں کا ذرہ ذرہ ہے ترے احسان […]

مجھ کو تنہائی میں سرکار بہت یاد آئے

غم کے ماروں کے وہ غم خوار بہت یاد آئے آج ہے آپ کی امت پہ وہی سنگ زنی پھر سے طائف کے وہ بازار بہت یاد آئے عرش پر جا کے بھی ہم فرش نشینوں میں سے آپ کو مجھ سے گنہگار بہت یاد آئے دیکھ کر مسجدِ نبوی کے جمال و عظمت پہلی […]

شد طبیبِ ما محبت، منتَش بر جانِ ما

محنتِ ما راحتِ ما، دردِ ما درمانِ ما محبت ہمارے لیے ہمارا طبیب بن گئی ہے اور اٗس کے احسان اور عنایتیں ہماری جان پر ہیں، اور اسی لیے ہمارے غم و رنج و الم ہی ہماری راحت ہیں اور ہمارا درد ہی ہمارا درمان ہے

زہے شادی کہ اُو آید، ببیند حالِ من، لیکن

من ایں شادی نمی خواہم کہ اُو غمناک خواہد شد زہے یہ خوشی کہ وہ (میرے پاس) آئے اور میرا حال دیکھے، لیکن میں ایسی خوشی نہیں چاہتا کہ وہ (میرا حال دیکھ کر) غمناک ہو جائے گا