ہر کرا توفیقِ عیبِ خویش بینی دادہ اند

بعد مُردن بر مزارش کور بینا می شود ہر وہ شخص کہ جسے (بجائے دوسروں کے عیب دیکھنے کے) اپنے عیب اور اپنی خامیاں دیکھنے کی توفیق دے دی گئی، مرنے کے بعد اُس کے مزار پر اندھے بھی دیکھنے والے بن جاتے ہیں۔ یعنی دوسروں کو بھی اپنے اپنے عیب دیکھنے کی توفیق مل […]

گر بہ قطارِ بندگاں، راہ دہی ستادہ ام

ور بکمانِ ابرواں، تیر زنی نشانہ ام اگر تُو (لطف و عنایت سے) اپنے غلاموں کی قطار میں مجھے جگہ دے تو میں (ہاتھ باندھے) کھڑا ہوں، اور اگر (جور و جفا سے) تُو اپنے ابروؤں کی کمان سے تیر چلائے تو میں نشانہ بنا کھڑا ہوں

کلیمے کہ چرخ فلک طور اوست ہمہ نورہا پرتو نور اوست

تو اصل وجود آمدی از نخست دگر ہر چہ موجود شد فرع تست ندانم کدا میں سخن گویمت کہ والا تیری زانچہ من گویمت چہ وصفت کند سعدی ناتمام علیک الصلاۃ اے نبی والسلام ترجمہ: آپ وہ کلیم ہیں جن کا طور عرش مجید ہے تمام نور آپ کے نور کے عکس ہیں آپ ابتدا […]

کسے کز وادیِ عقل و جنوں بیروں کشد خود را

نہ در معمورہ می خندد، نہ در ویرانہ می گرید وہ کہ جو عقل اور جنون کی وادی (تضادات کی دنیا) سے اپنے آپ کو باہر کھینچ لاتا ہے وہ پھر نہ آبادیوں میں ہنستا ہے اور نہ ہی ویرانوں میں روتا ہے، اس کے لیے سب کچھ ایک برابر ہو جاتا ہے

چوں وا نمی کنی گرہے، خود گرہ مشو

ابرو کشادہ باش چو دستت کشادہ نیست اگر تُو کوئی گرہ کھول نہیں سکتا (کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتا) تو خود ہی گرہ (مسئلہ) مت بن جا، اگر تیرا ہاتھ کشادہ نہیں ہے تو کم از کم کشادہ ابرو (خندہ پیشانی) والا ہی بن جا

چراغِ عیشِ من از تُند بادِ ہجرِ تو مُرد

بیا بیا کہ ز شمعِ رُخَت برافروزم میری راحت و خوشی و سرور نشاط کا چراغ تیرے ہجر کی تند و تیز ہوا سے بجھ گیا، آجا آجا کہ میں تیرے چہرے کی شمع سے اِس چراغ کو (پھر سے) روشن کر لوں