مراست خانہ بیابان و دل ز خوں دریا

تو عشق بیں کہ مرا میرِ بحر و بر دارد بیابان میرا گھر ہے اور اور دل خون ہو کر دریا بنا ہوا ہے تُو عشق (کی کرشمہ سازی و نیرنگی) دیکھ کہ اُس نے مجھے بحر و بر (تری اور خشکی، دریا اور بیابان) کا امیر بنا رکھا ہے

غمناکم و از کوئے تو با غم نروم

جز شاد و اُمیدوار و خرم نروم از درگہِ ہمچو تو کریمے ہرگز نومید کسے نرفت و من ہم نروم میں غمناک ہوں لیکن تیرے کوچے سے غموں کو ساتھ لے کر نہیں جاؤنگا بلکہ امید لیے، شاد اور خوش خوش جاؤںگا تیرے جیسے کریم کے در سے (آج تک) کوئی بھی ہرگز ہرگز ناامید […]

عَسَس با دُزد شد دمساز و ما با ہر دو بیگانہ

بہ شب از دزد باشد وحشت و روز از عسس ما را پاسبانوں (چوکیداروں) نے چوروں کے ساتھ یارانہ گانٹھ لیا ہے اور ہم ان دونوں سے بیگانہ ہمارے لیے رات کے وقت چوروں سے ڈر خوف ہے اور دن کے وقت پاسبانوں سے

سُودے نکند ہر کہ خریدارِ تو شد

صحت نپذیرد آں کہ بیمارِ تو شد آسودہ نشد دِلے کہ افگارِ تو شد اے وائے بر آنکس کہ گرفتارِ تو شد جو بھی تیرا خریدار ہوا اُسے پھر کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جو تیرا بیمار ہوا اُسے پھر صحت نہیں ملتی، جو دل بھی تیرا گھائل ہوا اُسے پھر کبھی آرام […]

زبانِ لاف رُسوا می کند ناقص کمالاں را

کہ رُو بر خاک مالد پرفشانی بستہ بالاں را جو لوگ اپنے فن میں ناقص ہوں (کامل نہ ہوں) اُن کو شیخی مارنا رُسوا ہی کرتا ہے کہ جیسے جس پرندے کے پر بندھے ہوئے ہوں اور وہ اُڑنے کی کوشش کرے تو اُس کا منہ خاک پر رگڑا جاتا ہے