مراست خانہ بیابان و دل ز خوں دریا
تو عشق بیں کہ مرا میرِ بحر و بر دارد بیابان میرا گھر ہے اور اور دل خون ہو کر دریا بنا ہوا ہے تُو عشق (کی کرشمہ سازی و نیرنگی) دیکھ کہ اُس نے مجھے بحر و بر (تری اور خشکی، دریا اور بیابان) کا امیر بنا رکھا ہے
معلیٰ
تو عشق بیں کہ مرا میرِ بحر و بر دارد بیابان میرا گھر ہے اور اور دل خون ہو کر دریا بنا ہوا ہے تُو عشق (کی کرشمہ سازی و نیرنگی) دیکھ کہ اُس نے مجھے بحر و بر (تری اور خشکی، دریا اور بیابان) کا امیر بنا رکھا ہے
دلِ فگار یکے، جانِ بے قرار یکے مجھے عیش سے کیا لینا دینا کہ آرام و سکون کے دو دشمن ہر وقت میرے ساتھ ہیں ایک دلِ فگار ہے، ایک جانِ بے قرار ہے
و آبِ شیریں چو تو در خندہ و گفتار آئی پھولوں کی قدر و قیمت ختم ہو جاتی ہے جب تو گلستان میں آتا ہے اور ٹھنڈے میٹھے پانی کی بھی جب تو مسکراتا اور بات کرتا ہے
خونِ فاسد را علاجِ خوشتر از اخراج نیست اگر تیرا دل آزردہ و افسردہ و پریشان ہے تو دل سے باطل خیالات کو نکال دے کہ فاسد خون کا اخراج سے بہتر کوئی علاج نہیں ہے
جز شاد و اُمیدوار و خرم نروم از درگہِ ہمچو تو کریمے ہرگز نومید کسے نرفت و من ہم نروم میں غمناک ہوں لیکن تیرے کوچے سے غموں کو ساتھ لے کر نہیں جاؤنگا بلکہ امید لیے، شاد اور خوش خوش جاؤںگا تیرے جیسے کریم کے در سے (آج تک) کوئی بھی ہرگز ہرگز ناامید […]
بہ شب از دزد باشد وحشت و روز از عسس ما را پاسبانوں (چوکیداروں) نے چوروں کے ساتھ یارانہ گانٹھ لیا ہے اور ہم ان دونوں سے بیگانہ ہمارے لیے رات کے وقت چوروں سے ڈر خوف ہے اور دن کے وقت پاسبانوں سے
راہے کہ رو بدوست ندارد ضلالت است وہ عمر کہ جو عشق میں نہیں گزرتی وہ نری بیکار اور بیوقوفی کی عمر ہے اور وہ راہ کہ جو دوست کی طرف نہیں لے جاتی، وہ سراسر گمراہی ہے
گرَش گُلیست ہمانا محبتست اے دوست محبت کو عزیز رکھ اور اس کا احترام کر کہ اس کانٹوں بھری دنیا میں اگر کوئی پھول ہے تو بلا شک و شبہ یہی محبت ہے اے دوست
صحت نپذیرد آں کہ بیمارِ تو شد آسودہ نشد دِلے کہ افگارِ تو شد اے وائے بر آنکس کہ گرفتارِ تو شد جو بھی تیرا خریدار ہوا اُسے پھر کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، جو تیرا بیمار ہوا اُسے پھر صحت نہیں ملتی، جو دل بھی تیرا گھائل ہوا اُسے پھر کبھی آرام […]
کہ رُو بر خاک مالد پرفشانی بستہ بالاں را جو لوگ اپنے فن میں ناقص ہوں (کامل نہ ہوں) اُن کو شیخی مارنا رُسوا ہی کرتا ہے کہ جیسے جس پرندے کے پر بندھے ہوئے ہوں اور وہ اُڑنے کی کوشش کرے تو اُس کا منہ خاک پر رگڑا جاتا ہے