آئے نظر جو وہ رُخِ قرآن کسی دن

آئینہ بنے دیدۂ حیران کسی دن ہنس ہنس کے نہ دیکھیں مجھے یہ عازمِ طیبہ نکلے گا مرے دل کا بھی ارمان کسی دن میں آ نہیں سکتا تو حضور آپ بلائیں احسانوں پر اک اور بھی احسان کسی دن موجوں سے جو ہوتی رہیں سرکار کی باتیں ساحل پہ مجھے لائے گا طوفان کسی […]

اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے اردگرد

جیسے ستارے ماہِ درخشاں کے اردگرد باغِ جناں کی سیر کو جی چاہتا نہیں پھیرے کیے ہیں ایسے گلستاں کے اردگرد اک آنکھ سوئے عشق ہے اک آنکھ سوئے فرش کونین ہیں ہمارے دل و جاں کے اردگرد پروانہ بن کے آ گئے سدرہ سے جبرئیل وہ نورِ حق ہے شمعِ فروزاں کے اردگرد جب […]

اس طرح جانِ دو عالم ہے دل و جان کے ساتھ

جیسے قرآن ہو خود صاحبِ قرآن کے ساتھ دل میں یوں ہی رہے ارمانِ مدینہ یارب ورنہ یہ دم بھی نکل جائے گا ارمان کے ساتھ یادِ والا نے تہہ قبر بڑا ساتھ دیا ورنہ کچھ بھی نہ تھا مجھ بے سروسامان کے ساتھ روحِ اسلام کا مفہوم ادا ہو جائے ملے اخلاق سے انسان […]

از منصبِ عشق سرفرازم کردند

وز منتِ خلق بے نیازم کردند چو شمع در ایں بزم گدازم کردند از سوختگی محرمِ رازم کردند مجھے منصبِ عشق سے سرفراز کر دیا گیا اور لوگوں کے احسانات و رحم و کرم سے مجھے بے نیاز کر دیا گیا۔ شمع کی طرح اس بزم میں پہلے تو مجھے (عشق کی آگ میں جلا […]

ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے

جس کو ہر اک نظر ترستی ہے بالیقیں زائر حرم کے لیے ہر قدم جذب کیف و مستی ہے آپ کی ذاتِ پاک ہے سب کچھ مری ہستی بھی کوئی ہستی ہے دل کی دنیا کو کیا کہیں آخر رحمتِ عرش خود برستی ہے سرِ بازار جنسِ عشق حضور جتنی مہنگی ہے اتنی سستی ہے […]

آشنایاں را چہ پیش آمد مروت را چہ شد

کز وفا و آشنائی در جہاں آثار نیست عشق و محبت و وفا کے واقف کاروں کے ساتھ کیا معاملہ ہو گیا؟ اور مروت کو کیا ہوا؟ کہ دنیا میں وفا اور آشنائی کی کوئی نشانی، کوئی علامت، کوئی آثار ہی نہیں ہیں

ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے

کروں نبی نبی یا نبی دنیا مجھے بھلا دے اشکوں سے تر ہے بدن ، اب تو کرم فرما دے رحمت سے اپنی مجھے نوید سفر مدینہ سنا دے ذاد سفر نہیں ہے، پنچھی مجھے بنا دے لوں اڑان میں، مدینہ مجھے پہنچا دے طلب ہے جیسے، اسے تخت و تاج دلا دے در آقا […]