اردوئے معلیٰ

Search

آج مشہور و معروف شاعر بیخود بدایونی کا یوم وفات ہے

بیخود بدایونی(پیدائش:17 ستمبر 1857ء— وفات:10 نومبر 1912ء)
——
بیخود بدایونی انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں کے نمایاں شاعر تھے۔ان کا حقیقی نام مولوی عبد الحئی تھا۔ ان کے والد کا نام مولوی غلام رسول تھا۔ ان کا تعلق بدایوں (اترپردیش) , بھارت سے تھا۔ ان کی پیدائش 17ستمبر 1857ء کو بدایوں میں ہوئی تھی جب کہ ان کی وفات نومبر 1912ء میں اسی جگہ ہوئی تھی۔ وہ مولانا الطاف حسین حالی کے شاگرد تھے۔
——
ابتدائی زندگی اور حالات
——
بیخود بدایونی کا اصلی نام عبد الحئی تھا ۔ وہ بدایون کے مشہور صدیقی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ بیخود کی پیدائش کے وقت ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا ۔ ان کے والد نے بڑے ہی ناز و نعم سے ان کی پرورش کی ۔ اسی لیے والد کو ان سے بے حد محبت تھی ۔
انہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق بیخود کو پڑھانے کے لیے معقول تنخواہ پر عربی اور فارسی معلمین کی خدمات حاصل کیں ۔ مگر بیخود کسی علم یا فن کی تحصیل مکمل نہ کر سکے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : بیخود دہلوی کا یوم پیدائش
——
چونکہ وہ زمانہ فارغ البالی کا تھا اس لیے تعلیم حاصل نہ کر سکنے کے باوجود بھی بیخود بدایونی کا شمار شہر کے معززین میں ہوتا تھا ۔
1873 ء میں والد نے ان کی شادی کر دی ۔
شادی کے کچھ عرصہ بعد بیخود کو معاش کی فکر دامن گیر ہوئی اور تعلیم کی کمی کا شدت سے احساس ہوا ۔
اس زمانے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے وکالت کا درجہ دوم و سوم کا امتحان پاس کرنے کے لیے انگریزی جاننا ضروری نہ تھا ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر بیخود بدایونی نے وکالت کا امتحان صرف چھے ماہ میں تیاری کر کے دیا اور پاس ہو گئے ۔
——
ظاہری حلیہ
——
بیخود اپنی جوانی میں بڑے طرح دار اور خوبصورت آدمی تھے ۔ طبیعت بھی عاشقانہ رکھتے تھے اور مزاج میں ایک طرح کی بے اعتدالی تھی جو شاعروں اور فنکاروں کا خاصہ ہے ۔
ان کے بارے میں عام طور پر یہ مشہور ہے کہ یہ خوبرو تھے اور ان کی وجاہت دیکھنے والوں کو مسحور کرتی تھی ۔
آخری ایام میں چہرے پہ داڑھی کا اضافہ ہو گیا تھا ۔ شیروانی اور پاجامہ ان کا پسندیدہ لباس تھا ۔
——
تلمذ
——
بیخود نے ابتدا میں خواجہ الطاف حسین حالیؔ سے مشورۂ سخن کیا ۔ جب حالیؔ نے اپنے خیالات میں تبدیلی پیدا کی اور ” مسدس مدوجزرِ اسلام” لکھی تو بیخود نے ان سے مشورہ ترک کر دیا ۔ وہ داغؔ کے کلام سے پہلے ہی متاثر تھے اس لیے داغؔ کے شاگرد ہو گئے ۔
بیخود کو داغ کے جملہ شاگردوں میں جو فضیلت اور اہمیت حاصل تھی اس کے سبب بہت سے حضرات انہیں داغؔ کا جانشین خیال کرتے تھے ۔
داغؔ کی طرف منسوب ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ جب ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا جانشین کون ہو گا تو انہوں نے جواب دیا ” بیخودین ” یعنی بیخود دہلوی اور بیخود بدایونی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : بیخود دہلوی کا یوم وفات
——
بیخود بدایونی نے اپنے خود نوشت حالات میں لکھا ہے کہ وفاتِ داغ کے بعد جانشینی کی جو جنگ چھڑی اس میں وہ شریک نہیں ہوئے ۔
——
احبابِ بیخود
——
امیرؔ مینائی سے بیخود کے انتہائی خوشگوار تعلقات تھے اور وہ بیخود کے کلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ بیخود کے دیوان کا انتخاب بھی امیر مینائی نے کیا تھا ۔
بیخود بدایونی کے کلام کا ایک انتخاب حسرتؔ موہانی نے بھی اپنے رسالے ” اردوئے معلیٰ ” میں اپریل 1912ء کی اشاعت میں کیا تھا اور تعارف بھی لکھا تھا جس میں بیخود کی شعری صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا تھا ۔
بیخود نے مضطر خیر آبادی سے بھی اپنے گہرے تعلقات کا ذکر کیا ہے اور اُن کے ایک قطعہ پر تضمین بھی کی ہے جو بیخود کے دیوان میں شامل ہے ۔
بیخود کو احسنؔ مارہروی سے خاص لگاؤ تھا ۔ بیخود کے کئی خطوط احسن مارہروی کے نام مطبوعہ موجود ہیں جن سے اس تعلق خاطر کا اظہار ہوتا ہے ۔
نواب سائل دہلوی سے بھی بیخود بدایونی کے مراسم انتہائی خوشگوار تھے ۔ انہوں نے اپنے دیوان میں دہلی کے قیام کے دوران سائل کا مہمان رہنے اور ان کی خاطر مدارات کا تذکرہ کیا ہے ۔
بیخود دہلوی سے ملاقات کا تذکرہ بیخود بدایونی نے اپنے دیوان میں کیا ہے ۔ دونوں ابتدا میں حضرتِ داغؔ کے شاگرد تھے ۔
بیخود بدایونی کے دیوان میں نوح ناروی کا قطعۂ تاریخ موجود ہے جس میں انہوں نے بیخود کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ بیخود سے نوح کے تعلقات نیازمندانہ سے معلوم ہوتے ہیں ۔
——
اہل و عیال
——
بیخود کی پہلی شادی 1873ء میں ہوئی ۔ ان کی پہلی بیوی کا نام حلیم النساء تھا جو بدایوں کے مشہور و معروف فرشوری خاندان کی تھیں جس کے افراد آج بھی معززین شمار کیے جاتے ہیں ۔
دوسری بیوی سے تعلق سے بیخود نے اپنے دیوان میں ان کے دائم المرض ہونے اور ان کی تیمارداری میں لگے رہنے کا ذکر کیا ہے ۔
وہ اجمیر کی رہنے والی تھیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : بیخود بدایونی کا یوم وفات
——
بیخود بدایونی کی جملہ اولاد ان کی وفات کے عرصہ تک جودھ پور میں ہی قیام پذیر رہی لیکن تقسیمِ ہند کے بعد ان کے ورثاء پاکستان منتقل ہو گئے ۔
ان کے بڑے صاحبزادے رضا حسین بیدلؔ صاحبِ دیوان شاعر تھے اور احسنؔ مارہروی کے شاگرد تھے ۔
دوسری بیوی میں سے ان کی دو لڑکیاں اور پانچ لڑکے تھے ۔
——
وفات
——
حسرتؔ موہانی نے بیخود کے انتقال پر ” اردوئے معلیٰ ” میں تعزیتی نوٹ لکھتے ہوئے ان کی انتقال کی تاریخ ” آخر ماہِ نومبر ” لکھی ہے ۔ اس لیے حسرتؔ کے بیان کی روشنی میں ان کی تاریخِ وفات 30 نومبر 1912ء قرار پائی ہے ۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
خدایا مطلعِ موزوں ہے نظمِ کُن فکاں تیرا
فغانِ سازِ ہستی شورِ مرغ صبح خواں تیرا
وجودِ دوزخ و جنت گزرگاہِ حق و باطل
قیودِ مذہب و ملت طلسم امتحاں تیرا
شہود ہستیِ اشیا نقابِ عارضیِ معنی
ظہور ہر دو عالم پردۂ رازِ نہاں تیرا
کمندِ خاطر عشاق تیرا لطفِ بے پایاں
کمیں گاہِ نگاہِ عشق حسنِ بے نشاں تیرا
رموزِ ممکن و واجب کیا جھگڑے میں ڈالا ہے
نہ مجھ پر ہو یقین میرا نہ تجھ پر ہو گماں میرا
نہ یاں اصرار جنت پر نہ یاں انکار دوزخ کا
یہاں بھی تو وہاں بھی تو مکیں تیرے مکاں تیرا
امیرؔ و محسنِؔ خوش گو کا ہمسر گو نہیں لیکن
زہے قسمت کہ بیخودؔ ہے تو آخر حمد خواں تیرا
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
واعظ خطر نہیں مجھے نارِ حجیم کا
ہوں امتی شفیع کا بندہ کریم کا
اعدا کے واسطے بھی نہ کی بددعا کبھی
اللہ رے مرتبہ ترے خلقِ عظیم کا
یوسفؑ کا حسن نوحؑ کی سطوت دم مسیحؑ
خلت خلیلؑ کی یدِ بیضا کلیمؑ کا
مولا کے قد و زلف و دہن کی مثال ہے
مطلب کھلا ہوا ہے الف لام میم کا
آوارگانِ وادیٔ یثرب سے پوچھ لے
جس کو پتہ ملے نہ رہِ مستقیم کا
بیخودؔ دیار و یار سے اب دل اٹھائیے
کیجیے طواف چل کے نبی کے حریم کا
——
اگر کچھ اس سے سوا کسبِ نور کرنا ہے
تو کوئے یار کے ذروں میں آفتاب رہے
——
وہی جنت ہے جہاں چین ملے دل بہلے
جس پہ دل آئے وہی حور ہے انساں کے لیے
——
کہا جب ان سے کسی نے کہ مر گیا بیخودؔ
ملا جواب ہمیشہ رہے خدا کا نام
——
دیکھ کر میرے جنازے کو کہا
پاؤں پھیلائے ہیں چادر دیکھ کر
——
مجھے یہ رنج کہ میں تابِ دید لا نہ سکا
انہیں یہ وہم کہ اس نے ضرور دیکھ لیا
——
سینہ صدف کا ہم نے غربت میں چاک دیکھا
سچ ہے بری بلا ہے غم دوریٔ وطن
——
سمجھ لیا کہ یہی ہے ہماری قسمت میں
رہا ملال تو کوئی ملال ہی نہ رہا
——
پردے سے پوچھتے ہو ترا دل کہاں ہے اب
پہلو میں میرے آؤ تو کہہ دوں یہاں ہے اب
——
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں
کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
——
دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں
بس اے تلاشِ یار نہ در در پھرا مجھے
——
پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہوا
حسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہوا
وہ میری آہ جو شرمندہء اثر نہ ہوئی
وہ میرا درد جو منت کش دوا نہ ہوا
خیال میں رہیں صورتیں عزیزوں کی
وطن سے چھوٹے ہوۓ اس قدر زمانہ ہوا
وہ داغ جس کو جگہ دل میں دی تھی جیتے جی
چراغ بھی تو ہمارے مزار کا نہ ہوا
پری وشوں کو سناتے ہیں قصہ خواں بیخودؔ
ہمارا حال نہ ٹھہرا کوئی فسانہ ہوا
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
——
جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں
درد جس میں نہیں جگر ہی نہیں
لوگ کہتے ہیں وہ بھی ہیں بے چین
کچھ یہ بے تابیاں ادھر ہی نہیں
دل کہاں کا جو درد دل ہی نہ ہو
سر کہاں کا جو درد سر ہی نہیں
بے خبر جن کی یاد میں ہیں ہم
خیر سے ان کو کچھ خبر ہی نہیں
بیخودؔ محو و شکوہ ہاۓ عتاب
اس منش کا تو وہ بشر ہی نہیں
——
حشر پر وعدہء دیدار ہے کس کا تیرا
لاکھ انکار اک اقرار کس کا تیرا
نہ دوا سے اسے مطلب نہ شفا سے سروکار
ایسے آرام میں بیمار ہے کس کا تیرا
لاکھ پردے میں نہاں شکل ہے کس کی تیری
جلوہ ہر شے سے نمودار ہے کس کا تیرا
اور پامال ستم کون ہے تو ہے بیخودؔ
اس ستم گر سے سروکار ہے کس کا تیرا
——
رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہے
یہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہے
دعا کو نہیں راہ ملتی فلک کی
کچھ ایسا ہجوم بلا ہو رہا ہے
وہ جو کر رہے ہیں بجا کر رہے ہیں
یہ جو ہو رہا ہے بجا ہو رہا ہے
وہ نا آشنا بے وفا میری ضد سے
زمانے کا اب آشنا ہو رہا ہے
چھپاۓ ہوۓ دل کو پھرتے ہیں بیخودؔ
کہ خواہاں کوئی دل ربا ہو رہا ہے
——
کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا
ہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے
جو کہتے ہیں کہ ترا دل کہیں ضرور آیا
جو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوہء یار
جسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا
خدا وہ دن دکھاۓ کہ میں کہوں بیخودؔ
جناب داغؔ سے ملنے میں رام پور آیا
——
حوالہ جات
——
سوانح از کتاب : حیات اور ادبی خدمات ، مصنف اسعد بدایونی
شائع شدہ : 1995 ء ، متفرق صفحات
شعری انتخاب از انتخابِ کلامِ بدایونی ، مصنف : بیخود بدایونی
شائع شدہ : 1990 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ