اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر بیخود دہلوی کا یوم وفات ہے

بیخود دہلوی(پیدائش: 21 مارچ 1863ء— وفات: 2 اکتوبر 1955ء)
——
استاد وحید الدین احمد بیخود دہلوی بروز اتوار 3 رمضان المبارک 1863 ء کو ریاست بھرت پور ( راجھستان ) میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے بزرگ ممتاز عہدوں پر فائز تھے ۔ حسنی و حسینی سید ہونے کے سبب ان کا شجرۂ نسب کی کڑی شیخ عبد القادر جیلانیؒ سے بائیسویں پشت میں جا ملتی ہے ۔ دادا سید بدرالدین احمد عرف فقیر صاحب سالکؔ و کاشفؔ تخلص کرتے تھے اور مرزا غالبؔ کے شاگرد تھے ۔ والد سید شمس الدین احمد عرف سید احمد سالمؔ کو شاعری سے غیر معمولی شغف تھا ۔ بیخود صاحب کو پیدائش کے چند ماہ بعد دہلی لایا گیا اور اس طرح ان کو دولت و ثروت ، علم و کمال اور عیش و عشرت کے ماحول میں پروان چڑھنے اور تربیت پانے کا موقع ملا ۔
بیخود صاحب نے قرآن شریف ختم کر کے فارسی کی تعلیم گھر پہ ہی حاصل کی اور چند سال میں ابتدائی درسی کتابیں ختم کر ڈالیں ۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ سے مہر نیمروز اور دیوانِ غالب اور دیگر شعرائے فارسی کے دیوان پڑھے ، فنِ عروض و بیان سیکھا اور اپنی شاعری کے آغاز میں اصلاح بھی مولانا حالیؔ سے ہی لی ۔
تقریباََ 14 برس کی عمر میں انہوں نے یہ شعر کہا تھا
——
دل سے نکل گیا کہ جگر سے نکل گیا
تیرِ نگاہِ یار کدھر سے نکل گیا
——
اُن کی شاعری کی ابتدا کے واقعات کچھ اس طرح بیان کیے جاتے ہیں کہ ایک روز آپ کے ماموں حکیم عبد اللہ خان رساؔ غزل کہہ رہے تھے ۔ حال کب ، خال کب ۔ رساؔ صاحب نے یہ قطہ کہا :
——
دیکھو تو آئینہ ذرا اے حضرتِ رساؔ
چہرے سے آشکار تھا رنج و ملال کب
ہم نے نہ کہہ دیا تھا کہ اچھا نہیں ہے عشق
کب تم تھے بے قرار ہوا تھا یہ حال کب
——
بیخودؔ صاحب نے فوراَ۔ یہ مصرعے لگائے :
——
میری خطا معاف ہو ، ہے شرم کی یہ جا
یہ حالِ زار اور ہو حضرت سا پارسا
بیخودؔ کی شکل کو بھی دل سے بھلا دیا
دیکھو تو آئینہ ذرا اے حضرتِ رساؔ
چہرے سے آشکار تھا رنج و ملال کب

تھا قول آپ کا تو گردوں نشیں ہے عشق
یا کہتے ہو کہ موت سے بدتر کہیں ہے عشق
کیوں ہے زباں پہ دشمنِ دنیا و دیں ہے عشق
ہم نے نہ کہہ دیا تھا کہ اچھا نہیں ہے عشق
کب تم تھے بے قرار ہوا تھا یہ حال کب
——
جب مولانا حالیؔ کو یہ شعر سنائے تو انہوں نے مسرت سے مشورہ دیا کہ تم شعر کہا کرو ۔ چنانچہ مولانا حالیؔ کی تحریک پر بیخودؔ غزلیں کہتے رہے اور اور اصلاح کے لیے انہیں ہی دکھاتے رہے ۔
اس زمانے میں وہ نادرؔ تخلص کرتے تھے ۔ 16 برس کی عمر میں بیخودؔ تخلص رکھا اور بعد میں مولانا حالیؔ کے مشورے سے داغؔ کی خدمت میں شاگردی کے لیے گئے ۔
داغؔ کے تقاضے پر بیخودؔ نے اپنی تازہ غزل کا یہ شعر سنایا :
——
جب آنکھ پڑی اپنی اک بات نظر آئی
اِن دیکھنے والوں نے تجھ کو ابھی کیا دیکھا
——
یہ شعر سُن کر داغؔ پھڑک اٹھے اور جب بیخودؔ صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ وہ روز ایک دو غزل لکھ کر پھاڑ دیتے ہیں اور اب تک ایک ضخیم دیوان ضائع کر چکے ہیں تو ان کو مسرت آمیز استعجاب ہوا ۔
اس طرح بیخود دہلوی داغؔ کے شاگرد ہو گئے ۔
بیخودؔ نے استاد داغؔ سے زبان و بیان میں مہارت حاصل کرنے اور اکتساب فن کے لیے دہلی کے بعد حیدر آباد میں بھی اُن کے ساتھ وقت گزارا اور اُن کی صحبتوں سے فیض اٹھاتے رہے ۔
بہت قلیل عرصے میں داغؔ نے انہیں کہہ دیا کہ اب انہیں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے ۔ مرزا داغؔ بیخودؔ سے اس قدر خوش اور مطمئن تھے کہ اُن کی زبان کو اپنی زبان کہا کرتے تھے ۔ اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے بیخود دہلوی کو وحید العصر کا خطاب دے دیا ۔ بیخود صاحب نے خود کہا ہے کہ :
——
زباں اُستاد کی بیخودؔ ترے حصے میں آئی ہے
پھر اتنا بھی نہیں کوئی خدا رکھے ترے دم کو
——
بیخودؔ صاحب نے اپنے کلام پر داغؔ کا رنگ اس قدر چڑھایا ہے کہ داغؔ و بیخودؔ کے شعروں میں امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
مرزا داغؔ کی عمر کے آخری دور میں کسی نے دریافت کیا کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہو گا تو داغؔ نے جواب دیا ” بیخودین ” اس جواب سے داغ کا اشارہ بیخود بدایونی اور بیخود دہلوی کی طرف تھا ۔ گو علم و فضل کے اعتبار سے دونوں بزرگ اپنا جواب نہ رکھتے تھے اور دونوں میں تعلقات بھی گہرے تھے لیکن زبان و بیان کے اعتبار سے بیخود بدایونی اہلِ دلی کے مقلد تھے اور بیخود دہلوی کے داغ سے گہرے تعلقات اور باہمی خلوص و محبت کے پیش نظر وہ خود بھی بیخودؔ صاحب کی بہت قدر کرتے تھے ۔
شاعری میں زبان و بیان ، محاورات اور روزمرہ دوسرے شعری مسائل پر ان کے خیالات اور فیصلے سند کی حیثیت رکھتے تھے ، دور دور سے لوگ نکاتِ شعری سمجھنے ، فکر و فن اور زبان و محاورے میں اپبے شبہات دور کرنے کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے ۔
خود مرزا داغؔ بھی شعر و سخن اور فکر و فن کے بعض مسائل میں بیخودؔ صاحب کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔
اسی وجہ سے انہیں داغِ ثانی بھی کہا گیا ہے اور یہی سبب ہے کہ دنیائے ادب نے انہیں جانشین داغ تسلیم کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : داغ دہلوی کا یوم وفات
——
خاندانی روایات کے مطابق بیخود دہلوی کو شاعری کے علاوہ شہہ سواری ، سپہ گری ، سیر و شکار ، پیراکی ، پہلوانی ، پتنگ بازی اور کبوتر بازی کے علاوہ دوسرے فنون میں بھی بے حد دلچسپی تھی ۔ سپہ گری ان کا آبائی فن تھا ، تلوار چلانا ، تیر اندازی کرنا ، اور بندوق کا نشانہ وہ خوب جانتے تھے ۔ نوابوں اور راجاؤں وغیرہ سے ان کے خاص تعلقات تھے ۔ خاص طور پر مہاراجہ گوالیار سے ان کی اچھی دوستی تھی ۔
بیخود دہلوی بہت حاضر دماغ اور خوش مزاج آدمی تھے ۔ شعر و سخن کے بحث و مباحثے میں انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا تھا ۔
بیخود صاحب کا ایک دلچسپ واقعہ کچھ یوں ہے کہ :
ایک صاحب کو اپنی شاعری پہ بہت زعم تھا ، ان کے نو عمر شاگردوں کی ٹولی اُن کی ہوا باندھنے میں پیش پیش رہتی تھی ۔ کبھی کبھی وہ خود بھی اپنی ہوابازی کے جوش میں آجاتے تھے اور استادوں کو بھی نہیں بخشتے تھے ۔ اُڑتے اُڑتے یہ خبر بیخودؔ صاحب تک بھی پہنچ گئی ۔ اتفاق سے کسی محفل میں ان شاعر صاحب سے بیخودؔ صاحب کا سامنا ہو گیا ۔ بیخود صاحب نے موقع غنیمت جان کر تیر چھوڑا :
” کیوں میاں صاحبزادے ! اب ایسوں کے بھی منہ آنے لگے جنہوں نے تمہیں بچپن سے اب تک خلوت و جلوت میں نہ جانے کس کس عالم میں دیکھا ہے ۔ میاں تم تو کیا تمہارے استاد نے بھی بل کی لی تھی ۔ تو ہم نے انہیں یہ شعر سنایا تھا :
——
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں
——
وہ ہوشیار تھے سمجھ گئے ۔ زندگی بھر سنبھل کر رہے اب تم یہ شعر سن لو :
——
جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
——
بیخودؔ صاحب کا نشانہ ٹھیک ٹھیک بیٹھا اور وہ موصوف اپنے شاگردوں کے جمگھٹ میں غرق عرق ہو گئے ۔ دوسرے روز یہ بات سارے شہر میں مشہور ہو گئی اور بے چارے شاعر صاحب کو دلی کے مشاعروں میں کسی نے نہیں دیکھا ۔
بیخود صاحب کے شاگردوں کی تعداد کم و بیش تین سو کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں مقامی و غیر مقامی مسلمان اور ہندو شامل ہیں ۔
استاد بیخودؔ کو یوں تو اپنے سارے ہی شاگرد عزیز تھے لیکن شنکرؔ دشاد کی نیاز مندی اور خصوصی توجہات نے استاد کا دل موہ لیا تھا اور وہ ان سے بڑی محبت کرتے تھے ۔
بیخود دہلوی کی اولاد میں ایک صاحبزادے سید محی الدین عرف چفری جو سیدؔ تخلص کرتے تھے اور تین صاحبزادیاں تھیں ۔ سید صاحب بھی شاعری کرتے تھے اور بیخودؔ صاحب کے شاگرد تھے ۔
بیخودؔ صاحب کے انتقال کے بعد وہ پاکستان چلے گئے ۔ وہیں انہوں نے انتقال کیا ۔ بیخودؔ صاحب کی تینوں صاحبزادیاں بھی پاکستان چلی گئی تھیں ۔
بیخودؔ صاحب تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں ہی رہے اور مرتے دم تک دلی نہیں چھوڑی ۔ ضعیف العمری اور آئے دن کی بیماری کے سبب دن بدن کمزور ہوتے گئے اور ایک رو غیر معمولی اسہال شروع ہو گئے۔ پھر وہ سنبھل نہیں پائے ۔ اسی حالت میں انہوں نے 2 اکتوبر 1955ء کو 97 سال کی عمر میں انتقال فرمایا ۔
پورے ہند و پاک اور خاص طور پہ دلی میں صفِ ماتم بچھ گئی ۔ تعزیتی جلسے ہوئے اور ہر طرف سے یہی آواز آئی کہ :
——
زندہ تھا بیخودؔ کے دم سے نام داغؔ و میرؔ کا
آج رخصت ہو گیا وہ خانماں برباد بھی
——
بیخودؔ دہلوی کی تصانیف میں گفتارِ بیخود ، دُرِ شہوار بیخود ، مراۃ الغالب اور ننگ و ناموس اُن کی باقاعدہ تصانیف میں شامل ہیں جو اُن کی زندگی میں ہی شائع ہوئیں ۔
——
منتخب کلام
——
حضرتِ موسیٰ بہت مشکل ہے اُس کا دیکھنا
دیکھ کر جلوہ ذرا ، اپنا تماشا دیکھنا
——
مجھے باور نہیں دنیا میں کوئی شادماں ہو گا
جہاں دو مل کے بیٹھیں گے مخالف آسماں ہو گا
سراپا حسن ، اس پر یہ ادا ، یہ ناز ، یہ شوخی
تمہارا عکس بھی آئینے میں تم سا کہاں ہو گا
——
جو چڑھ گیا نظر پر وہی ہے قریب تر
دل سے بھلا دیا جسے ، وہ دور ہو گیا
——
بہروپئے کا سانگ ہے ، دنیا کی ہر ادا
جس لب پہ کل ہنسی تھی ، اُسی پر فغاں ہے آج
——
پہاڑ اے کوہکن تو نے اگر کاٹا تو کیا کاٹا
ہمیں تو دیکھ ہم نے عمر کاٹی ہے جدائی میں
——
نقاب اُلٹے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں ماہِ کامل سے
لگا دیتی ہے تجھ کو داغ صورت ایسی ہوتی ہے
——
تنگ آ کے دستِ شوق سے دیں اُس نے گالیاں
سچ ہے کسی کا ہاتھ ، کسی کی زباں چلے
——
ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں سب فرشتے کس لیے
آج یارب عرش پر کس کی دعا آنے کو ہے
——
گرے جو چاہ میں یوسفؑ تو ہو گئی تشہیر
زوال ہی سے تو حاصل کمال ہوتا ہے
——
بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے
اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند
——
بیخودؔ نئی زمیں ہو ، مضموں نئے نئے
سوغات کچھ تو چاہیے احباب کے لیے
——
ہمیں پینے سے مطلب ہے ، جگہ کی قید کیا بیخودؔ
اُسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی
——
کُھلتا ہی نہیں بیخودؔ بدنام کا کچھ حال
کہتے ہیں فرشتہ بھی اسے لوگ بشر بھی
——
بیخودؔ وہ گالیوں پہ اُتر آئے دیکھئے
میں بے زبان بن کر کہاں تک سنا کروں
——
ہم کو تو وضعدار حسیں بیشتر ملے
ہم تو اُسی سے ملتے ہیں جو عمر بھر ملے
تم سے اکھل کُھرے سے بھلا کیا بشر ملے
دل سے نہ دل ملے نہ نظر سے نظر ملے
اُس بے وفا سے عہدِ وفا لے رہے ہیں ہم
جو ایک بار مل کے نہ پھر عمر بھر ملے
کچھ اُن کے دل میں میری طرف سے ملال تھا
رُک کر اٹھے ، جھجک کے بڑھے ، سوچ کر ملے
پتھر کے ان بُتوں کو اگر تو نے دل دئیے
فولاد کا ہمیں بھی الہٰی جگر ملے
نکلا جو تیر سینے سے دم بھی نکل گیا
برسوں سے آرزو تھی کوئی ہمسفر ملے
بیخودؔ سے اُن کا دل نہیں ملتا کسی طرح
وہ عید بھی ملے ہیں تو منہ پھیر کر ملے
——
پامال نعش کیوں نہ ہو مجھ خستہ حال کی
تعلیم دے رہے ہیں قیامت کو چال کی
آئینہ کیا بتائے گا مجھ سے ملاؤ آنکھ
میری نظر کسوٹی ہے حسن و جمال کی
ارمان وہ نکالنے آئے ہیں نزع میں
کیا لُوٹ مچ رہی ہے مسافر کے مال کی
برسوں رہے ہیں حضرتِ موسیٰ کے ہوش گُم
دیکھی تھی اک جھلک ترے حسن و جمال کی
تم چُھپ کے سات پردوں میں مجھ سے نہ چھپ سکے
آںکھوں سے دُوربیں ہیں نگاہیں خیال کی
یہ ابر ، یہ ہوا ، یہ جوانی ، یہ فصلِ گُل
زاہد ابھی سے تجھ کو پڑی ہے مآل کی
بیخودؔ کی خامشی کا سبب اُن سے پوچھیے
اُس کو تو کچھ خبر ہی نہیں اپنے حال کی
——
بیتابیوں میں کیوں شبِ فرقت بسر ہوئی
اے ضبطِ غم بتا تجھے کس کی نظر ہوئی
اس کا نصیب جس پہ کرم کی نظر ہوئی
جس طرف وہ ہو گئے ، دنیا اُدھر ہوئی
قسمت ، فلک ، سرور ، زمانہ ، خوشی ، نشاط
سب تھے اُدھر ، نگاہ تمہاری جدھر ہوئی
گوشہ اُلٹ گیا تھا کسی کے نقاب کا
دنیا کو دیکھتا ہوں اِدھر کی اُدھر ہوئی
انکار مَے کے پینے سے بیخودؔ نہیں ہمیں
پی لیں گے ہم بھی اُن کی عنایت اگر ہوئی
——
وہ ستم آپ نے ڈھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
ایسے ارمان مٹائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج وہ ہم نے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغ وہ عشق میں کھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
بزمِ دشمن میں نہ پوچھ ہم سے بتا کیا دیکھا
وہ تماشے نظر آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
تیرا انداز ، تیرا حسن ، ترا ناز و غرو
ایسے آںکھوں میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
سُن کے فریاد میری حشر میں فرماتے ہیں
تو نے وہ فتنے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
آپ کے وہ ظلم و ستم ، آپ کے قدموں کی قسم
اس قدر دل سے بھلائے ہیں کہ جی جانتا ہے
آج کہتے ہوئے آتے تھے کہیں سے بیخودؔ
جلوے وہ تو نے دکھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
——
تحریر : ڈاکٹر کامل قریشی از انتخاب کلام مع حیات و خدمات اسرار بیخود
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ