کچھ حقیقت سے کچھ فسانے سے
دور ہم ہو گئے زمانے سے نیند کوشش سے تو نہیں آتی خواب بنتا نہیں بنانے سے خود کو کس کر پکڑ لیا میں نے تیر چُوکے نہیں نشانے سے تیرا بے ساختہ لپٹ جانا یہ سہولت ہے لڑکھرانے سے میرا ہر خواب پھر سے جاگ اٹھا آپ کے یوں نظر ملانے سے آؤ مل […]