اپنی پوشاک ہی میں رہتا ہوں
خاک ہوں، خاک ہی میں رہتا ہوں
معلیٰ
خاک ہوں، خاک ہی میں رہتا ہوں
جبیں چوم کے اُس نے مجھے روانہ کیا اب اس کے بعد تو بنتا ہے عمر بھر کا سفر
میں دل کی بات کبھی ڈھنگ سے نہ کہہ پایا کسی خیال میں ترتیب کوئی تھی ہی نہیں سو شعر کوئی بھی آہنگ سے نہ کہہ پایا برادری کے کسی فیصلے نے باندھ دیا میں دل کی بات مری منگ سے نہ کہہ پایا شہید ہونے سے پہلے اُسے بھی دیکھنا تھا مگر یہ بات […]
ضبط کا مورچہ نہیں چھوڑا
میں چپ رہا تھا کہ انکار ہو نہیں رہا تھا مری اور اس کی محبت کا ذکر تھا جس میں میں اس کہانی کا کردار ہو نہیں رہا تھا کسی کی ہلکی سی مسکان سے سلگتا دل وہ آئنہ تھا جو دیوار ہو نہیں رہا تھا غضب کی دھوپ تھی سلگا رہی تھی جسم وجاں […]
پھر اس کے بعد برابر سنائی دیتا ہے وہ سب سے پہلے بلاتا ہے بزم میں مجھ کو کسی بھی درد کو جب رونمائی دیتا ہے وہ دیکھتا نہیں لیکن وہ دیکھ لیتا ہے وہ بولتا نہیں لیکن سنائی دیتا ہے اُس خبر ہے شدت میں کون تڑپے گا وہ باوفا ہے مگر بے وفائی […]
پرانا جسم کہ سامان میں پڑا ہوا تھا تمھارے ساتھ کئی دن گزارنے کے بعد خیال رات کو دالان میں پڑا ہوا تھا ہمارے مسئلے سارے نمٹ چکے تھے مگر معاملہ کوئی تاوان میں پڑا ہوا تھا میں ساری رات اسی کشمکش میں سو نہ سکا نظارا دن کا بیابان میں پڑا ہوا تھا قلم […]
نظر سے پار کہیں دور سلسلہ دل کا مرے دماغ نے مجھ کو جگا دیا لیکن اُس ایک خواب میں چہرہ ہی رہ گیا دل کا ایام تلخ ہیں مجھ کو سمجھ نہیں آتا کہ درد کوئی بتائے گا ذائقہ دل کا یہ رات کون مرے ساتھ جاگتا رہا ہے یہ رات کس سے ہوا […]
ہم اہل ِ عشق ، محبت میں مارے جاتے ہیں ہماری لاش تو گرتی ہے جنگ لڑتے ہوئے مگر جو پیٹھ پہ برچھے اُتارے جاتے ہیں عمامہ سجتا ہے آخر امیرِ شہر کے سر ہمارے جیسے عقیدت میں وارے جاتے ہیں میں روک سکتا نہیں خاک کو بکھرنے سے سمندروں کی طرف چل کے دھارے […]
اب ترے خواب دیکھتے ہیں مجھے