چار حرفوں کی یہ ابجد حمد بھی ھے نعت بھی

صاحبو!اسمِ محمد حمد بھی ھے نعت بھی ربِ کعبہ کی قسم ، یہ مسئلہ ہے عشق کا بات یہ ہے ذکرِ احمد ، حمد بھی ہے نعت بھی تُو ثنائے مُصطفیٰ کی کیفیت پر غور کر اِس کی تو کوئی نہیں حد ، حمد بھی ہے نعت بھی

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

کہیں ہم نے پتا پایا نہ ہر گز آج تک تیرا صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحدِ مطلق نہ کوئی تیرا ثانی ہے نہ کوئی مشترک تیرا جمال ِ احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے ملاحت تجھ سے شیریں ، حسن ِ شیریں میں نمک تیرا تیرے فیض کرم […]

کیا شان شہنشاہ کونین نے پائی ہے

ختم آپ کی ہستی پر ہر ایک بڑائی ہے ہر ایک فضیلت کے ہیں مظہر کامل وہ کیا ذات شہ والا خالق نے بنائی ہے کون ان کے برابر ہو کون ان کے مماثل ہو ایسی تو کوئی ہستی آئے گی نہ آئی ہے جنت کا تصور اب کیا آئے مرے دل میں تصویر مدینے […]