ماہِ طیبہ کا جب خیال آئے

گفتگو میں عجب کمال آئے یادِ آقا کا یہ کرشمہ ہے مشکلوں پر سدا زوال آئے ظلمتِ دہر نور نور ہوئی دہر میں آمنہ کے لال آئے یوں تو ھادی ہیں انبیاء سارے مصطفٰی سب سے بے مثال آئے اِذن پاؤں میں باریابی کا ایسا بھی کوئی ماہ و سال آئے ہو کرم آپ کا […]

مرے سخن میں بھلا اس قدر جمال کہاں

میں ان کی نعت لکھوں یہ مری مجال کہاں دعائیں پائی ہیں دشمن نے بھی شہِ دیں سے زمانے بھر میں کوئی ان سا خوش خصال کہاں خدا نے بھیجے ہیں دنیا میں انبیاء تو بہت حضور آپ کے جیسی مگر مثال کہاں وہ جان لیتے ہیں قلب و نظر میں جو کچھ ہے در […]

دمِ آخر تمنّا ہے یہی ،لب تر ہوں مدحت میں

سناؤں نعت آقا کو لحد میں ،ان کی الفت میں ہوا ماہ  مبیں ٹکڑے تو پلٹا شمس بھی واپس حقیقت کیا ہے ان دو کی،خلائق ان کی قدرت میں یہی دل کی صدا ہے زندگی گزرے مری ایسے کروں گستاخ کے سر کو قلم عشقِ رسالت میں محبّت میں وہ شدت ہو ،رسائی ہو مدینے […]

ہے کھڑی امتِ مصطفی صف بہ صف

کر رہے ہیں وہ سب پر عطا صف بہ صف آپ کے در سے خالی نہ پلٹا کوئی آپ کے در پہ ہیں سب گدا صف بہ صف وقتِ میثاق کیا شان تھی آپ کی جب کھڑے ہو گئے انبیا صف بہ صف رحمتوں، شفقتوں کے سبھی سلسلے سیرتِ پاک میں جا بجا صف بہ […]

ملتی نہیں ہے ان کے سوا اب ہمیں اماں

ایسے نبی کو چھوڑ کے جائے کوئی کہاں مجھ کو سکون کب ہے ترے در کے ماسوا خواہش ہے ساری زیست گزر جائے اب وہاں دیکھا نبی کی یاد کو دل میں بسا کے پھر بھولا نہیں ہے دل سے کبھی ان کا آستاں کوئی نہیں ہے آپ کے جیسا مرے نبی سرکار آپ ہی […]

ان کا دنیا میں جو غلام ہوا

اس پہ رحمت کا التزام ہوا آمدِ مصطفےٰ سے عالم میں صنفِ نسواں کا احترام ہوا مل گئی نسبتِ نبی جس کو اونچا دنیا میں اس کا نام ہوا آپ کی ذاتِ پاک کے صدقے ماں کو حاصل بڑا مقام ہوا بربریت بھرے زمانے میں ہر جگہ امن کا نظام ہوا آپ کی نعت کے […]

کیا بتاؤں کہ قلم پر مرے کیا کیا اترا

ہاں زباں پر مری، نعتوں کا وظیفہ اترا کس طرح عرض کروں شانِ رسولِ اکرم ذہنِ افکار پہ مدحت کا سلیقہ اترا ایک دن پھر مجھے طیبہ سے بلاوا آئے سانس در سانس یہی ایک عریضہ اترا لفظ جوڑے ہیں جو الفت سے ثنا کی خاطر ان کی جانب سے بھی شفقت کا صحیفہ اترا […]

آپ سے آپ کی بس ایک نظر مانگتے ہیں

سبزِ گنبد کے مکیں اِک یہی زر مانگتے ہیں جس کی بینائی سے دیکھیں گے مدینے کی طرف اے نبی آپ سے ہم ایسی نظر مانگتے ہیں موت نے یوں بھی تو آنا ہے کسی دن ہم کو اس قضا کے لیے طیبہ کا نگر مانگتے ہیں نعت کہنے کا ملے اذن مدینے والے ہم […]

حضور چشمِ کرم ہو زوال برسا ہے

چہار سمت سے رنج و ملال برسا ہے زمینِ شعر پہ جب بھی خیال برسا ہے برائے نعت یہ کتنا کمال برسا ہے جہانِ تار کو پل بھر میں کر دیا روشن ’’اِس اہتمام سے ان کا جمال برسا ہے ‘‘ کیا ہے ذکرِ مبارک سے قلب کو روشن جبینِ زیست پہ لطفِ خصال برسا […]