جب نظر کے سامنے روضہ کا منظر آئے گا

خود بخود میری زبان پر ذکر سرور آئے گا دیکھنا ہے سایہ احمد تو دیکھو عرش پر آسماں کا سایہ آخر کیوں زمیں پر آئے گا مجھ کو نسبت ہے محمد سے ، نہیں دنیا کا خوف مجھ سے ٹکرائی تو گردش کو بھی چکر آئے گا تیرگی کو کاٹ دے گی جنبشِ نوکِ قلم […]

دالان و در و بام منوّر مِرے گھر میں

ہیں جلوہ کُناں گویا پیمبر مِرے گھر میں ہو سکتا ہے سرکار کی آمد کا اِشارہ خوشبو سی مہک اُٹھتی ہے اکثر مِرے گھر میں جب سوچوں کبھی ہوں گے مِرے دُور اندھیرے خود روشنی آجاتی ہے چل کر مِرے گھر میں میں دھوپ میں سائے کے مزے لوٹ رہاہوں رحمت کی ہے برسات برابر […]

نعت کے میرے سینے میں در کُھل گئے

جیسے جکڑے ہُوئے دونوں پَر کُھل گئے بس تصوّر کیا آپ موجود ہیں نور کے سلسلے آنکھ پر کُھل گئے بس اُدھر گھومی دل میں کلیدِ ثنا ایک اک کرکے سب قفل اِدھر کُھل گئے یامحمد کہا اور تہہ میں گیا راز جتنے بھی تھے سر بہ سر کُھل گئے تُو مدینے کی گلیوں سے […]

بدن پہ تیرگی چھا جائے ، نیند آنے لگے

چراغِ اسمِ محمّد مُجھے جگانے لگے یہ کیسا فطری تعلّق ہے چشم و اسم کے بیچ کہ تیرا ذکر ہُوا اور ابر چھانے لگے عجیب کیف سا چھایا رہا شبِ معراج دِیے وجود کے طاقوں پہ جِھلملانے لگے ترے مدارِ ثنا ہی میں مُنقلب ہُوا مَیں بدن کے مُردہ عناصر کہیں ٹھکانے لگے عجیب لَے […]

کسی سے کیا کروں فریاد و نالہ یا رسول اللہ

کہ میرا ضبط ہے سب سے نرالا یا رسول اللہ مَیں اپنے شہر کے خونیں مناظر کس طرح دیکھوں بُنا ہے آنکھ پر مکڑی نے جالا یا رسول اللہ مُنافق رُوبرو تھے، سامنے سے جنگ کیا ہوتی کسی نے پُشت پر مارا ہے بھالا یا رسول اللہ سدا تکلیف میں گریہ کناں پھرتا رہا ہُوں […]

یہ شمعِ عشق جو دِل میں کہیں جلی ہُوئی ہے

اِسی کی لَو سے مصیبت مری ٹلی ہُوئی ہے ترے ہی فیض سے پائے ہیں باغ نے خدوخال کہ پُھول پُھول ہُوا ہے کلی کلی ہُوئی ہے حضور آپ نے سونپا ہے حیدری نعرہ اِسی کی گونج سے دِل میں علی علی ہُوئی ہے اے اسمِ پاک چمک اور صُبح کر مُجھ میں یہ رات […]

خزاں کی رُت میں بھی دل کی کلی کِھلی ہُوئی ہے

ترے کرم ہی سے خیرات یہ مِلی ہُوئی ہے دُرود پڑھتا ہُوا آ رہا ہوں محفل سے اِسی لئے مری رنگت کِھلی کِھلی ہُوئی ہے حضور کوئی سہارا کہ گرنے والی ہے مری فصیل جو بنیاد سے ہِلی ہُوئی ہے اے نُطقِ پاک مرے دل کی خامشی کو توڑ مری صدا مرے حلقوم میں سِلی […]

حضور کوئی تدارک کہ دل نُمو پائیں

ہم ایک گوشۂ سرسبز چار سُو پائیں کمال ہو کہ سحر دَم جُونہی چراغ بُجھے تو خود کو روضۂ اقدس کے رُو بہ رُو پائیں کٹے تو صرف کٹے آپ کے لئے گردن ہم اپنے دل میں شہادت کی آرزُو پائیں ترے ہی فیض سے سَر کر لیں کوہِ ہست و بود جہاں بھی جائیں […]

امیدوار میں بھی ہوں نگاہِ التفات کا

وہ کر رہے ہیں آج فیصلہ مقدرات کا بس اک نگاہِ حق نگر نے آئینہ بنا دیا ہمارے دل پہ تھا بہت غبار خواہشات کا نبی کے نقشِ پا میں کائنات دیکھ لو گے تم طلسم ٹوٹنے تو دو ذرا حصارِ ذات کا وہ صادق و امین وہ عظیم لازوال سچ وہ آئینہ خدائے بے […]

رسول حق سبب خلقت دوعالم تھے

جہاں ظلم میں اک رحمت مجسم تھے ہر آدمی کے لیے زخم دل کا مرحم تھے کرم کا بحر تھے لطف و عطا کا زم زم تھے ستمگروں کو تحمل کی حد دکھاتے تھے وہ ظلم کرتے تھے ان پر، یہ مسکراتے تھے ہوئے تھے ظلم میں کچھ اہل ظلم یوں بے باک طرح طرح […]