یہ معجزہ بھی کسی دن شہِ حجاز کرے

بلا کے روضے پہ مجھ کو بھی سرفراز کرے وہ خوش نصیب جو گھر سے خدا کے آیا ہے اُسے کہو کہ وہ جتنا بھی چاہے ناز کرے میں اِک نماز میں سب کچھ خدا سے لے لوں گا اگر قبول جو مولا مری نماز کرے میں روز پھول نچھاور کروں گا روضے پر مرے […]

جانا مدینے پھر مرا سچ مچ وصول ہو

منہ پر مَلی ہوئی مرے مکے کی دھول ہو تخلیق مجھ سے ایسی بھی نعتِ رسول ہو میرے حضور کو بھی جو دل سے قبول ہو ہو جاؤں غرق میں بھی محمد کے عشق میں میرے لہو میں ایسا جنوں بھی حلول ہو جا کر جسے حضور کے روضے پہ رکھ سکوں ناصرؔ ہمارے باغ […]

کہاں انسان سے ہو پائے گی مدحت محمد کی

زباں کر ہی نہیں سکتی بیاں عظمت محمد کی خدا خالق ہے ، ربِ دو جہاں ہے اس میں کیا شک ہے یقیناََ قائم و دائم رہی حُجت محمد کی ادھر زنجیر میں جنبش ، ادھر گرمی ہے بستر میں ادھر وہ لوٹ بھی آئے ، یہ ہے رفعت محمد کی ادھر لشکر لعینوں کے […]

آقا تری عزت تری عظمت پہ فدا جان

ہم سب کی ہے ناموسِ رسالت پہ فدا جان صورت پہ فدا اور تری سیرت پہ فدا جان اے پیارے نبی تیری فضیلت پہ فدا جان اے نور مجسم تری شوکت پہ فدا جان اے رحمت عالم تری رحمت پہ فدا جان اے یارِ نبی تیری صداقت پہ فدا جان فاروق تری عدل و حکومت […]

سخن کی کھیتی پہ جیسے اُترے ثنا کے موسم

بصد تنوع مہکتے آئے عطا کے موسم طلوعِ صبحِ جمالِ مدحت کی تازگی سے بکھرتے جائیں گے ابتلا و بلا کے موسم کمال پروَر ہے کوئے جاناں کی موجِ نکہت جمال افزا ہیں قریۂ دلرُبا کے موسم صراطِ جاوءک پر شفاعت نے جب سنبھالا تو کون جانے کدھر گئے پھر خطا کے موسم تمہاری خاطر […]

صورتِ نعت نو یاب ہے آوازۂ دل

للہِ الحمد ، کہ بکھرا نہیں شیرازۂ دل موسمِ مدحِ پیمبر کی نمو کاری سے صحنِ احساس میں کِھلتا ہے گُلِ تازۂ دل یادِ سرکار چلی آتی ہے ہر سانس کے ساتھ مَیں مقفل نہیں کرتا کبھی دروازۂ دل توشۂ شہرِ کرم بار ہے خاکِ اطہر ہے یہی کحلِ بصر اور یہی غازۂ دل نقش […]

یہ درگاہِ معالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم

یہاں کی رُت جمالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم مچل لیں روضۂ جنت میں آنکھیں اور حرفِ لب یہاں سے آگے جالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم الگ انداز ہے زائر کی حیرت کا ، عقیدت کا عجب تیرا سوالی ہے ، نگاہیں خَم ، مژہ پُر نَم کوئی […]

بھر دو جھولی مری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی حق سے پائی وہ شان کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی اس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظر کرم تم نے ڈالی زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی وہ محمد کا پیارا نواسا جس نے […]

شکرِ خُدا کہ نعت نگہ دارِ حرف ہے

ورنہ تو حرف خود ہی سُبک سارِ حرف ہے واللہ ، تیرے نام سے ہے آبروئے نطق واللہ ، تیری نعت سے پندارِ حرف ہے تُو خامہ و بیاں کی ہے آخری طلب تُو ہی کرم نواز و شرَف بارِ حرف ہے اِک نام ہے جو کھولتا ہے بابِ معرفت ورنہ تو سب حجاب ہے […]

حرفِ اظہارِ عقیدت بہ زباں باندھا ہے

مصرعِ نعتِ شہِ ہر دو جہاں باندھا ہے ایک بھی شعر تری شان کے شایاں نہ ہُوا لاکھوں حرفوں میں زرِ حُسنِ بیاں باندھا ہے اِک ترا خواب ہی آنکھوں میں سجایا ہے مدام اِک ترا شوق ہی پلکوں میں رواں باندھا ہے ہر نفَس رشتۂ توصیف سے ہے پیوستہ مدحتِ شاہ کا ہر حرف […]