شان ، پہچان اور شرَف کے چراغ

مدحتِ شاہ سے شغَف کے چراغ ضَوفشاں ہیں بہ اوجِ مطلعِ دید ایک دستِ ضیا کی کَف کے چراغ قبر میں بھی چلیں گے ، حشر میں بھی تیری نسبت ، تری طرَف کے چراغ تا ابد نُور بار و ضَو انگیز تیرے نعلینِ پا سے لَطف کے چراغ اُفقِ نعت پر سحَر آثار طلع […]

حرف کے طُرۂ دستار سے اوسع ، ارفع

نعت ہے فکرِ قلم کار سے اوسع ، ارفع گو تمنا ہے ، مگر مدحِ شہِ دیں کا محافظ ہے مرے حیطۂ اظہار سے اوسع ، ارفع ہے کوئی جاں ترے آثارِ محبت سے ورا ؟ ہے کوئی دل ترے انوار سے اوسع ، ارفع ؟ بخدا وسعت و رفعت میں نہیں ہشت بہشت کوچۂ […]

کُن کے کُل التفات کا مطلع

آپ ہیں کائنات کا مطلع آپ کے اسم کا توارد ہے خاورِ شش جہات کا مطلع ہے خیالِ جمالِ شہرِ کرم شوق کی بات بات کا مطلع تابشِ نعت سے فروزاں ہے مقطعِ ممکنات کا مطلع زلف و رُخ سے ہیں مستنیر ہوئے صبح کی تاب ، رات کا مطلع خاتمِ انبیا ہی ہیں لا […]

کر لیں کتنا بھی اہتمام یہ لفظ

بن نہیں سکتے مدحِ تام یہ لفظ بھیجتے ہیں درود اور سلام صورتِ جذبِ ناتمام یہ لفظ باریابی کی آرزو میں ہیں شاہِ عالَم ! ترے غلام ، یہ لفظ خاص ہیں ، معتبر ہیں ، روشن ہیں نعت آثار عام خام یہ لفظ لب یُوحیٰ کی لمس یابی سے ہو گئے صاحبِ مقام یہ […]

بے ضرورت ہے قیل و قالِ عرض

آشکارا ہے اُن پہ حالِ عرض اُس سخی کے درِ عنایت پر مفتخِر کیوں نہ ہو سوالِ عرض حرف جُو ہی رہا درِ شہ پر منفعل ہی رہا خیالِ عرض کیا کرم ہے کہ بابِ مدحت میں خامشی خود ہے اندمالِ عرض بے تعطل رہا کرم اُس کا اور معطل رہی مجالِ عرض ہو رہی […]

عام ہے سرکار کا فیضانِ خاص

بے سبب ہم کو نہیں ایقانِ خاص بہرہ یابِ فوز ہوں گے امتی جب شفاعت کا ہُوا فرمانِ خاص کوچۂ شہرِ ثنا کی چاکری اے کرم خُو ! ہے ترا احسانِ خاص کیا عجب محشر میں ہو گی آپ کی منصبِ محمود پر وہ شانِ خاص بٹ رہا ہے آپ کی دہلیز سے کُل جہاں […]

وصل کو بھی نارسائی میں بدل خاموش باش

وصل کو بھی نارسائی میں بدل ، خاموش باش یہ مدینہ ہے یہاں حیرت میں ڈھل ، خاموش باش ساعتِ آخر میں آنا ہے انہیں بہرِ کرم ایک لمحے کو سہی لیکن اجل ! خاموش باش تُو جو الجھا ہُوا نُور و بشر کی بحث میں یہ تری عقلِ زیاں کا ہے خلل ، خاموش […]

دل کے حریمِ شوق میں ایک ہے نام اور بس

اُس پہ درود اور بس ، اُس پہ سلام اور بس بہرِ نیازِ نعتِ نَو ، بہرِ جوازِ حرفِ دل عرضِ خیالِ خام کو مژدۂ تام اور بس نُدرت حرف بے نشاں ، جودتِ جذب بے نمو پیشِ حضور لایا ہُوں خام کلام اور بس اتنی سی ہے طلب دروں ، اتنا سا ہے جنوں […]

یاس کس طرح نمو جُو ہو دلِ زار کے پاس

مژدۂ عفوِ نہایت ہے خطا کار کے پاس حیطۂ جاں میں رواں ہے یمِ تمدیح کی رَو تشنگی پھر بھی کہیں رہتی ہے اظہار کے پاس لَوٹ آیا ہے مدینے سے تنِ جبر نصیب دل بصد عجز وہیں ہے درِ غمخوار کے پاس موجۂ بادِ شفاعت مرے امکان میں اُترا فردِ عصیاں ہے مری ، […]

نُطق بے ربط ہے اور طبعِ رواں ہے کژمژ

درگہِ نعت میں سب زورِ بیاں ہے کژمژ آپ آئیں گے تو ہو جائے گا تزئیں ساماں سیدی ! یہ جو مرا خیمۂ جاں ہے کژمژ نعت ہی راست تیقن کی ہے ضامن ، ورنہ مَیں گماں زاد ہُوں اور میرا گماں ہے کژمژ معتبر آپ کی نسبت سے ہی ہونگے واللہ ورنہ یہ شوق […]