مولانا جامیؒ کی مشہورِ زمانہ نعت کا منظوم ترجمہ

نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وصلی الله علی نورٍ کزو شد نورہا پیدا زمیں باحُبِّ اُو ساکن فلک در عشق اُو شیدا محمد احمد و محمود، وے را خالقش بستود ازو شد جودِ ہر موجود، و زو شد دیدہا بینا از در ہر نتے ذوقے، و زو در ہر دلے شوقے […]

کجھ ڈنگ حیاتی دے ودھاویں نہ ودھاویں

مکھ آپ دی مرضی اے وکھاویں نہ وکھاویں ہر آس کھلوتی اے ترا مَل کے دوارا توں خیر دے کے ایہنوں رجاویں نہ رجاویں میں غم دے سمندر، تے کنارے توں حبیبا ہے موج تری مینوں تراویں نہ تراویں قاسم توں زمانے دا توں محبوب خدا دا مینہ آپ عطاواں دے وساویں نہ وساویں ایہ […]

سرکار ہیں سر چشمۂ الطاف و عطا مانگ

اللہ سے محبوب کےصدقے میں دُعا مانگ کونین کی دولت ہے یہی، صبح و مَسا مانگ وہ خوش تو خدا خوش ہے،تُو بس ان کی رضا مانگ اِس در سے طلب کرنے کے بھی ہیں ادب آداب پڑھ صلِ علیٰ ، ہاتھ نہیں ، جھولی اُٹھا ،مانگ پت جھڑ میں بھی ہو جائے گی پیڑوں […]

تم ہو شاہ امم اے حبیب خدا

شاہ عرب و عجم اے حبیب خدا مجھکو گھیرے کیوں غم اے حبیب خدا جب ہے تیرا کرم اے حبیب خدا جیسا تیرا حرم اے حبیب خدا کیا ہو باغ ارم اے حبیب خدا آپ کا نوری چہرا نگاہوں میں ہو جس گھڑی نکلے دم اے حبیب خدا مجھ پہ برسا کرے ہر گھڑی اے […]

میرے آقا مدینہ بلا لو میرے دل کی یہی التجا ہے

اپنا نورانی روضہ دکھا دو میرے دل کی یہی التجا ہے دیکھ لوں میں بھی گنبد تمہارا، آنکھ میں بھر لوں منظر وہ سارا اذن طیبہ کا آقا عطاء ہو میرے دل کی یہی التجا ہے جس کو جو کچھ جہاں سے ملا ہے، سب کو تم نے ہی آقا دیا ہے نعت کہنے کا […]

کیسے ہو زندگی بسر آقا

پاس میرے نہیں ہنر آقا مال و دولت نہ کوئی زر آقا تجھ پہ ہے آسرا مگر آقا مجھ پہ رحمت کی ہو نظر آقا دیکھ لوں میں بھی تیرا در آقا ہوگا نفسی میں جب بشر آقا میری رکھ لینا تم خبر آقا لیکے جھولی میں کب سے بیٹھا ہوں جائے جھولی مری بھی […]

کر رہا ہوں التجا میں سید ابرار سے

مشکلیں حل ہونگی میری آپ کے دربار سے ذکر سے انکے ہمیشہ تر رہے میری زباں ہو منور قلب و جاں عشق شہ ابرار سے ہو کرم کچھ ایسا مجھ پر سید کونین کا اڑ کے پہنچوں میں مدینہ وہ بلائیں پیار سے غار میں بھی ساتھ تھے اور قبر میں بھی ساتھ ہیں دیکھ […]

توفیقِ ثنا جو مل رہی ہے

اس دل پہ نظر حضور کی ہے آقا مجھے در پہ حاضری کا اب اذن ملے کہ بے کلی ہے مل جائے گاکچھ ہنر بھی اِک دن کوشش تو ثنا کی میں نے کی ہے حاضر ہوں خیال میں جو در پر احساس میں کیا شگفتگی ہے اے کاش! ہو پیروی کی مظہر نعتوں میں […]

عیاں تو ہونی ہی تھی عظمتِ حضور ضرور

زماں زماں نظر آنا تھا اُن کا نور ضرور محمدِ عربی رحمتِ ہر عالم ہیں ہر اُمتی کو بھی ہونا ہے شر سے دور ضرور نبی کی ذات سے وابستگی ضروری ہے ملے گا نعت نگاری کا بھی شعور ضرور ہو میرا حشر بھی مدحت گزار لوگوں میں حضور ! آپ جو کہہ دیں وہاں […]

عزیزؔ شہرِ نبی شہرِ آرزو ہے مرا

مگر یہ بُعدِ مکانی بڑا عدو ہے مرا نبی سے طِیبِ تکلم کی بھیک مانگتا ہوں اِسی لیے سخنِ نعت مشک بو ہے مرا اُمیدِ طیبہ رسی منہ نہ موڑنا مجھ سے اندھیری رات میں واحد چراغ تو ہے مرا میں خود ہی بے عملی سے ہوا ہوں دشمنِ جاں جہاں میں اور کوئی شخص […]