مدینہ چھوڑ کے جانا ہے ایک بے کس کو
حضور ! اس کی تشفی کاکچھ تو ساماں ہو کہا یہ آنکھ سے پھر آج قلبِ مضطر نے زمینِ طیبہ میں پھر آنسوؤں کے بیج ہی بو ادب نے آہ و بکا پر لگائی ہے قد غن مگر ہے دل کا تقاضا کہ پھوٹ پھوٹ کے رو تمام عمر کی چادر پہ داغِ عصیاں ہیں […]