مدینہ چھوڑ کے جانا ہے ایک بے کس کو

حضور ! اس کی تشفی کاکچھ تو ساماں ہو کہا یہ آنکھ سے پھر آج قلبِ مضطر نے زمینِ طیبہ میں پھر آنسوؤں کے بیج ہی بو ادب نے آہ و بکا پر لگائی ہے قد غن مگر ہے دل کا تقاضا کہ پھوٹ پھوٹ کے رو تمام عمر کی چادر پہ داغِ عصیاں ہیں […]

رات کے چھوٹے سے حصّے میں سفر تا لامکاں

رات کے چھوٹے سے حصّے میں سفر تا لامکاں٭ روزِ اوّل ہی سے آقا کے لیے مخصوص تھا مصلحت یہ تھی کہ وہ دیکھیں سبھی آیاتِ حق اور دیں انساں کو سارا علم خود دیکھا ہوا عالمِ انسانیت میں آپ وہ انسان ہیں رب نے بلوا کر جنہیں دیدار کاموقع دیا علم کی عین الیقیں […]

مدحِ آقا کی تڑپ دل میں لیے

مدحِ آقا کی تڑپ دل میں لیے میں اچھوتے لفظ، نادر صوت پاکیزہ خیال اپنے رب سے مانگتا ہوں روزو شب اور پھر ہوتا ہے قلبِ مضطرب کو یہ یقیں مجھ پہ ہوگا مہرباں ربِّ قدیر اور بخشے کا وہ لہجہ مدحِ آقا کے لیے جس میں نورِ صدق سوزِقلب تنویرِخیال و فکر کی سب […]

ہوں منتظرِ ساعت، وہ چشمِ کرم اُٹّھے

میری بھی نگاہوں سے پردہ کوئی دم اُٹّھے اظہار کی ناکامی پر روز پشیماں ہوں ہر روز ہی آقا کی مدحت میں قلم اُٹّھے نادم ہو جو یہ عاصی سرکار کی محفل میں بخشش کے تصوّر سے، بادیدۂ نم اُٹّھے اُٹھ جائیں اگر پردے آنکھوں سے کبھی میری پُر شوق تقاضا ہو ہر بار کہ […]

وہ جس کے نور سے یہ خاکداں درخشاں ہے

تمام عرصۂ گیتی میں ایک انساں ہے عمل تو ہو نہ سکا کچھ مگر یہ کم تو نہیں کہ دل میں پیرویِ مصطفی کا ارماں ہے رقم بھی کرتا ہے احوالِ قلبِ ہجر زدہ قلم نگارشِ مدحت پہ آپ نازاں ہے حضور ! اُمتِ عاصی ہے آج خوار و زبوں ہر ایک صاحبِ دل اُمتی […]

پیرویِ شہ دیں سے ہو میسر عرفان

کاش ہو جائے ہمارا بھی مقدر عرفان میرے اعمال سے سچائی کی کرنیں پھوٹیں اتباعِ شہ والا کا ہو مظہر عرفان اُن کی نعتوں میں ہوں آداب کے اسلوب تمام لفظ و معنیٰ کا جو پا جائیں سخنور عرفان ساری مخلوق میں اشرف ہے، مگر انساں کو لا سکا نفس کے چنگل سے نہ باہر […]

لبِ عیسیٰ پہ بشارت کی جو مشعل تھا کبھی

عہدِ حاضر کے اندھیروں میں دکھائی دے گا جس کے ہونٹوں سے ملے لفظ و معانی کو گُہر ” وہ مرے حرف کو اک تازہ نوائی دے گا ” جب سوا نیزے پہ سورج کی انی چمکے گی سایۂ دامنِ احمد ہی دکھائی دے گا ہر صدا حشر کے میدان میں پتھر ہو گی نغمۂ […]

وہ ایک نام جو آبِ حیات ہے لوگو

مرے لہو میں مری آرزو میں زندہ ہے صفات و ذات کے پردے اٹھا دئیے جس نے مری شـراب اُسی اک سبُو میں زندہ ہے دیارِ شرق سے لے کر دیارِ مغرب تک یہ مُشتِ خاک تری آرزو میں زندہ ہے تمہاری یاد ہے جس کے لیے مثالِ حرا وہ کس وقار سے اس ہاؤ […]

سارے عالم میں انوار کی روشنی

چار سُو ان کے افکار کی روشنی تیرگی میرے من میں ہو کیسے بھلا میرے اندر ہے سرکار کی روشنی پھر زمانے میں جھکتے نہیں ان کے سر جن کے ہاتھوں میں تلوار کی روشنی ان کے گھر میں رہے گا اندھیرا سدا جن کو مطلوب اغیار کی روشنی فصل بوتے ہیں جو حُسنِ اعمال […]

مہکی ہوئی من کی جو فضا دیکھ رہا ہوں

آتی ہوئی طیبہ کی ہوا دیکھ رہا ہوں ہو جائے کبھی مجھ کو شہا اذنِ حضوری میں تیری طرف جانِ وفا دیکھ رہا ہوں اللہ کا گھر وا ہوا ، سرکار کا در بھی ٹلتی یہ کرونا کی وبا دیکھ رہا ہوں سرکارِ دو عالم کے ہے چہرے کا یہ پرتو جوچرخ پہ تاروں میں […]