سناتے جاؤ بس مجھ کو در سرکار کی باتیں
کیے جاؤ تم اُن کے کوچہ و بازار کی باتیں ملے عُشّاق کو جو آپ کے موقع وہ کرتے ہیں کبھی اخلاق کی باتیں ، کبھی کردار کی باتیں غم و آلام میں میلاد کی محفل سجاتا ہوں بڑی ڈھارس بندھاتی ہیں مِرے غمخوار کی باتیں وہاں پر رحمتِ ربّ جہاں بے شک برستی ہے […]