إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ

اللہ اللہ رب کے لب پر إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ہے در شانِ آلِ پیمبر إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ملا ہے یہ اذن ِ رَبّانی، پڑھیں نمازیں، دیں قربانی آپ کا دشمن ہوگا ابتر، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ غمگیں تھے محبوب خدا کے، اِتنا کہا جبریل نے آکے آپ پہ اُتری سورۂ کوثر، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ دی تھی […]

سرِ نظارت رخِ مدینہ کہاں سے لاؤں

عجم کی مٹی ہوں طورِ سینا کہاں سے لاؤں حضورِ اکرم سُنیں تو ہولے سے مسکرا دیں میں نعت کہنے کا وہ قرینہ کہاں سے لاؤں مہک تو سکتے ہیں اب بھی دونوں جہان لیکن میں شاہِ ابرار کا پسینہ کہاں سے لاؤں میں دیکھ پاؤُں شہِ مکرم کے نرم تلوے میں وہ مقدر وہ […]

جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

تو قدسی پھول ان کے نام پر پیہم لٹاتے ہیں خدا دامان ان کے دولتِ رحمت سے بھرتا ہے جو نقشِ نعل کا گھر بار میں پرچم لگاتے ہیں ابھی صحنِ چمن سے بادِ کوئے شاہ گزری ہے گلوں پر حسنِ رنگ و نور کے موسم بتا تے ہیں نگاہِ کیمیا سے خاک بھی زر […]

دیارِ نور میں اک آستاں دکھائی دیا

کفِ زمیں پہ دھرا آسماں دکھائی دیا جناں کا نور تھا خوشبو کے مست جھونکے تھے دیارِ نور بہ رنگِ جناں دکھائی دیا خجل دکھائی دیئے ماہ و خاور و انجم جہاں حضور کا تلوا عیاں دکھائی دیا بدن جلانے لگی دھوپ روزِ محشر کی تو سبز نور بھرا سائباں دکھائی دیا وہیں پہ شوکتِ […]

چاندنی آ کے افلاک سے رات بھر

چومتی ہے مدینے کے دیوار و در نعت کے اوج کو چھو لیا حرف نے میرے الفاظ ہونے لگے معتبر سبز گنبد مواجہ ریاضِ جناں دیکھنے کو تڑپتا ہوں شام و سحر ارضِ طیبہ ہے لاریب رشکِ جناں سنگریزے مدینے کے شمس و قمر میں خطا کار ہوں اور نادم بھی ہوں اے رسولِ خدا […]

کرم کریم کا اچھے سمے میں رکھتا ہے

غلام زاد کو پیہم مزے میں رکھتا ہے پکارتے ہیں ترے خواب نیند کی جانب وفورِ عشق مجھے رتجگے میں رکھتا ہے سوائے نعت کوئی بات سوجھتی ہی نہیں جمالِ شاہ اسی دائرے میں رکھتا ہے درونِ قلب مہکتا ہے مثلِ مشکِ ختن خیالِ شاہ بڑے فائدے میں رکھتا ہے خیال ورد کے لمحے رہا […]

رہا خیال مصطفیٰ کی ذات سے جُڑا ہوا

یہ نام ہے ہماری بات بات سے جُڑا ہوا وہی رہے گا معتبر کریم کی نگاہ میں جو حرف ہے شہِ عرب کی نعت سے جُڑا ہوا نگل ہی جائے تیرگی ہمارے خواب خواب کو اگر نہ ذکرِ زلفِ شہ ہو رات سے جُڑا ہوا خطا مری معاف ہو اگر ہوں آپ ملتفت نصیب ہے […]

سنہری جالی کی ضو فشانی کو مانتی ہیں مطاف آنکھیں

اسی کا اشکوں سے با وضو ہو کے کر رہی ہیں طواف آنکھیں لگا کے امید در گزر کی ندامتوں سے جھکا کے پلکیں درِ رسالت پہ کر رہی ہیں گناہ کا اعتراف آنکھیں یہ عکسِ تاباں یہ روئے اطہر کوئی نہ دیکھے سوائے اِن کے ترے تصور پہ ڈال دیتی ہیں آنسوؤں کا لحاف […]

محوَرِ حُسنِ دو عالم شاہِ خُوباں لُطف کُن

منبعِ جُود و سخا! محبوبِ یزداں لُطف کُن در حِصارِ ظُلمتِ ہِجر و فراقم یا نبی رونقِ کون و مکاں خُورشیدِ تاباں لُطف کُن باز کُن در ہائے مدحت بر حروفِ منکسر کاشفِ اسرارِ وحدت گنجِ عرفاں لُطف کُن من گدا ابنِ گدا ابنِ گدا ابنِ گدا تو سخا بحرِ سخا اے میرِ میراں لُطف […]

خواہشِ دید! کبھی حیطۂ ادراک میں آ

آ خواہشِ دید! کبھی حیطۂ ادراک میں آ خواب کو خلد بنا ،دیدۂ نمناک میں آ ا میرے سینے میں دھڑکتی ہے مدینے کی دعا زیست باقی ترے قدمین میں جینے کی دعا ب تیرے دربار میں لایا ہوں فقط حرفِ طلب تیرے شایان نہیں گرچہ مرا ظرفِ طلب پ باغِ کونین کے ہر پھول […]