دیار عشق ہو سجدوں میں صبح و شام کروں

زمانہ کچھ بھی کرے بس یہی میں کام کروں یہ مختصر سے مہ و سال کی بساط ہے کیا ہزار جان خدا دے تمہارے نام کروں رکھی ہو قبر میں تھوڑی سی خاک کوئے رسول نجات کے لیے کچھ ایسا انتظام کروں کھلے جو نامۂ اعمال بس ہو نام ترا تمام عمر میں اتنا ہی […]

تمام عمر یہی میں نے ایک کام کیا

درود ان پہ پڑھا، اور انہیں سلام کیا ملائکہ نے توجہ کے موتی برسائے نبی کے ذکر کا ہم نے جو اہتمام کیا کہاں ٹھکانہ ہے تیری عطا کا میرے نبی خدا نے کشورِ الطاف تیرے نام کیا درِ نبی کی غلامی کا تاج سر پہ تھا امیرِ شہر نے بڑھ کر اسے سلام کیا […]

بوئے طیبہ جو سونگھتی ہو گی

خلد کی روح جھومتی ہو گی ان کی تابش کو چوم لے بڑھ کر دور سے برق سوچتی ہو گی ریگ طیبہ سے روشنی کے لیے چاندنی ہاتھ جوڑتی ہو گی ان کھجوروں کی ڈالیاں چھو کر باد رحمت بھی جھومتی ہو گی کتنی خوش بخت ہوگی ارض حرم ان کے قدموں کو چومتی ہو […]

ترے عشق کے تو چرچے سرِ عرش چل رہے ہیں

وہ نکھر کے آئے جلوے جو سرِ ازل رہے ہیں یہی لگ رہا ہے مجھکو تری زلف پر فدا ہیں سرِ شام اس جہاں میں جو یہ سائے ڈھل رہے ہیں وہ ہیں ہر طرف کے مالک کسی سمت سے بھی آئیں ہے یہی سبب کہ کروٹ یہ بشر بدل رہے ہیں کبھی پھر براق […]

سید دوسرا کی بات کریں

آؤ خیرالوریٰ کی بات کریں جس نے بخشا ہے زندگی کا شعور اُس رسولِ خدا کی بات کریں ہے خدا و رسول کو بھی پسند کیوں نہ غارِ حرا کی بات کریں جس کا اخلاق سربسر قرآن اُس شہ انبیا کی بات کریں جس نے امن و اماں کی رکھی بنا آؤ اُس پیشوا کی […]

نوازشاتِ شہہ انبیاء کے طالب ہیں

سبھی سفینے اسی ناخدا کے طالب ہیں مرے جہان تمنا ، مرا دیار نظر تجلیاتِ حبیبِ خدا کے طالب ہیں جہان رشد و ہدایت کے قافلے والے بھٹک گئے ہیں ترے نقشِ پا کے طالب ہیں حضور! اذنِ حضوری کی بخش دیں سوغات مریض ہجر ہیں ہم اور دوا کے طالب ہیں فنا کا دشتِ […]

ہے راحتِ جاں فرحِ جگر گنبدِ خضریٰ

ہر وقت رہے پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ لاریب ہو سرسبز مری شاخِ تمنا دیکھوں جو میں ہر شام و سحر گنبدِ خضریٰ ہر اوج کا رفعت کا بلندی کا علو کا جھکتا ہے ترے سامنے سر، گنبد خضریٰ بس میری نگاہوں میں ترا عکسِ حسیں ہو اس درجہ مرے دل میں اتر گنبدِ خضریٰ پرکیف […]

جس وقت کہ آ جائے مری جان لبوں پر

اسمِ شہہ بطحا کی ہو گردان لبوں پر ہر سانس ہو مشغولِ ثنائے شہہ والا ہو جذبۂ حسان کا فیضان لبوں پر دکھلایا تصور نے جو سرکار کا روضہ کلیوں کی طرح کِھل گئی مسکان لبوں پر ہو ورد زباں صلی علیٰ آل محمد یوں ذوق مودت کا ہو اعلان لبوں پر قربان رخ پاک […]

شاہِ کونین کی ثنا کیجے

طول رحمت کا سلسلہ کیجے خانۂ دل کو طاقچہ کیجے عشق سرکار کو دیا کیجے بھیجٔے ابر التفات حضور شاخِ بے برگ ہوں، ہرا کیجے ماہ و خورشید مجھ پہ رشک کریں یا نبی اپنی خاک پا کیجے نیک نامی کی آرزو ہے تو پھر یا نبی یانبی رٹا کیجے بے کلی کو گلِ قرار […]

باغِ سخن نہ ہوگا اس کا خزاں رسیدہ

حصے میں جس کے آیا سرکار کا قصیدہ وہ میرے مصطفی ہیں وہ میرے مصطفی ہیں کامل ہے جن کی سیرت اوصاف ہیں حمیدہ ہے اتباعِ آقا، وجہِ فلاح عالم امت کو زہرِ قاتل افکار ہیں جدیدہ سرکار کی اطاعت، اللہ کی اطاعت اعلان کر رہا ہے تاریخ کا جریدہ سلمان فارسی کی قسمت پہ […]