فضائے طیبہ میں دن جو گزرے وہ آج پھر یاد آئے دل کو
حیات بخشی ہے اُس فضا میں، اُسی سے انساں لگائے دل کو تجلیِ عہدِ شاہ طیبہ کی بات روشن کریں فضائیں پھر اس کے بعد اور کیوں کسی عہد کا فسانہ سنائے دل کو جو اُن فضاؤں سے کٹ گئے ہیں وہ نام تک اپنا کھو چکے ہیں بھلا ہو نظَّارۂ مسلسل کا جس میں […]