جب گلشن حیات میں سرکار آ گیے

جب گلشن حیات میں سرکار آ گئے مہکی فضا ، شباب پہ گلزار آ گئے نعت رسول پاک کا نغمہ جو چھڑ گیا وجد و طرب میں ثابت و سیار آ گئے اب دیکھنا یتیموں کے چہروں کی رونقیں نادار و ناتواں کے طرفدار آ گئے آمد سے ان کی دہر کا نقشہ بدل گیا […]

غزل کے روپ میں نعتوں کا آئینہ دیکھو

اِس آئینے میں ذرا تابشِ وِلا دیکھو یہ شاعری جو نہیں بے جہت کسی رخ سے اِسی کو اب جرسِ کارواں بنا دیکھو تڑپ رہا ہے یہ دل یادِ شہرِ طیبہ میں زُجاجِ شعر میں احساس برملا دیکھو دلوں میں طِیبِ محبت بسی ہے اُس در کی عقیدتوں کا صحیفہ کھلا ہوا دیکھو ہے اِتِّبَاع […]

کونین کی فضا میں انوار چھا رہے ہیں

پہنے قبائے نوری ، سرکار آ رہے ہیں ہوں آسمان والے یا ہوں زمین والے آمد پہ مصطفیٰ کی ، خوشیاں منا رہے ہیں میلاد مصطفیٰ سے پر کیف ہیں بہاریں گلزار و باغ عالم خوشبو لٹا رہے ہیں نکلے جلوس لے کر باد صبا کے جھونکے غنچے چٹک چٹک کر نعتیں سنا رہے ہیں […]

زوجۂ پاکِ مُزّ مِّل و ابطحی

ماہِ صدق و صفا کی حسیں روشنی جس کے ماتھے کا جھومر صداقت بنی رسمِ تصدیق جس کے پدر سے چلی جس کو ورثے میں تسلیم کی خو ملی چاندنی جس کی رویت سے شرما گئی میری ماں! عائشہؓ علم کی منتہی دیں میں جس کی اُمومت سے جاں پڑ گئی راویوں میں ہمیشہ نمایاں […]

رسولِ اکرم پہ ان کے رب نے

کیا ہے یہ خاص اپنا احساں کہ ان کی خاطر زمیں بنا دی تمام تر سجدہ گاہ یکساں پھر اس زمیں بھر میں پھیلنے کو بنائی خالق نے ایک اُمَّت کہ جو فقط اُس کا حکم مانے اسی کی قائم کرے حکومت زمیں کو منکر سے پاک رکھے جہاں میں معروف عام کر دے نبی […]

مری خامیاں تو ہزار ہیں

مگر ایک بات ہے فخر کی مگر ایک بات ہے ناز کی مجھے اِک شرف تو نصیب ہے مجھے دینِ حق کا شعور ہے یہ شرف تو مجھ کو نصیب ہے کہ جو میرے رب کا حبیب ہے وہی میرے دل کے قریب ہے مری خامیاں تو ہزار ہیں مگر ایک بات ہے فخر کی […]

نقشِ پا اُن کا لا کلام تمام

اور سارے نقوش خام تمام نور جن کا ہے اَوّلیں تخلیق کائنات ان کا فیضِ عام، تمام تھا تو پیغام ہر نبی علیہ السلام کا وہی اُن پہ ہونا تھا یہ نظام تمام راہِ دیں پر ہر اک رسول چلا مصطفیٰ نے کیا خِرام تمام آپ نے در گزر کا درس دیا عفو کی، رسمِ […]

جن کے اوصافِ حمیدہ کا خزانہ بے قیاس

اُن کی خدمت میں کروں کیا پیش میں حرفِ سپاس جب زوالِ اُمتِ آقا کا آتا ہے خیال ڈوبنے لگتا ہے دل ہوتا ہے کچھ اتنا اُداس اب اِسے قعرِ مذلت میں بھی ملتا ہے سکوں بے حسی اس درجہ آتی ہے کسی ملت کو راس؟ اب اُسی ملت کے ذہن و دل میں بت […]

تڑپ تو رکھتا ہوں زادِ سفر نہیں رکھتا

کرم حضور! کہ میں بال و پر نہیں رکھتا میں عرضِ حال کے قابل کہاں مرے آقا ! سوائے عجزِ بیاں، کچھ ہُنر نہیں رکھتا ستم زدہ ہوں نگاہِ کرم کا طالب ہوں میں بے اماں ہوں کہیں کوئی گھر نہیں رکھتا مجھے بھی عشق کی سچائیاں میسر ہوں نثار کرنے کے قابل میں سر […]