تمھارے نور کا صدقہ ملا ہے ان ستاروں کو

سلامِ عاجزانہ پیش ہے ان چار یاروں کو یقینا چوم کر آتی ہے تیرے سبز گنبد کو تبھی بادِ صبا چھیڑے ہے میرے دل کے تاروں کو مہک اٹھے مدینہ جانے والے سارے ہی رستے کیا جب آپ نے زیرِ قدم ان ریگ زاروں کو کہیں جبریل آتے ہیں کہیں صدیق جاتے ہیں مشرف آپ […]

وہ رسولِ محتشم ہیں رونقِ دارین ہیں

ان سے ہے ساری اماں جو صاحبِ کونین ہیں پھر سجانے کو گزر گاہِ حبیبِ کبریا کہکشاں ہے منتظر ،شمس و قمربے چین ہیں عشق اور ایقان کہتا ہے کہ بابِ فضل میں رفعتِ افلاک سے اونچے، ترے نعلین ہیں اک طرف بے ہوش کوئی اک طرف دیدارِ حق رتبۂ مازاغ پر بس آپ کی […]

وہاں جب جاؤ تو نظریں نہیں دل بھی جھکا لینا

حرم کی خاک اپنی پلکوں سے چن کر اٹھا لینا یہ وہ دربار ہے جس کا ادب قرآں سکھاتا ہے کسی حاجت پہ بھی آواز اپنی مت بڑھا لینا بچھڑ کر منبرِ آقا سے زار و زار جو رویا سلاموں میں محبت اس ستوں جیسی بسا لینا کوئی کیا ارمغاں شایانِ دربارِ رسالت ہو فداک […]

عجب پر نور تھا اس دم سماں معراج کی شب

ہوا جب غیبِ کل تجھ پر عیاں معراج کی شب سند بعبدہِ کی پائی پہلے، پاک رب سے گئے پھر آپ سوئے لامکاں معراج کی شب سرِ عرشِ معلّی مصطفی جلوہ فگن تھے رہا ساکن ہر اک کارِ جہاں معراج کی شب وہ قربِ خلق اور خالق بھی تھا پر نور کیسا کہ بس تھا […]

میں چھوڑ آیا ہوں آنکھیں دیارِ طیبہ میں

کہ چاشنی ہے الگ سی خمارِ طیبہ میں یہ سلسبیلِ جناں مہر و ماہ و باغِ ارم قلم بھی لوح بھی سب ہیں حصارِ طیبہ میں یہاں ہے باغِ عدن حجرۂ نبی و بقیع چھپی ہیں برکتیں تب ہی غبارِ طیبہ میں ہے ان کے اذن پہ موقوف میرا رختِ سفر یہ دل ہے کب […]

ہر طرف نور کا بہتا ہوا دریا ہو گا

جب وہاں پیشِ نظر گنبدِ خضرٰی ہو گا شرحِ جذباتِ سیہ قلب کرینگے آنسو دل کی دنیا میں عجب حشر سا برپا ہو گا منزلِ دل ہے یہی اور یہ ہی ہے مقصود یہ عطا ہو گی تو عصیاں کا مداوا ہو گا روبرو روضۂ اقدس کے ، لبوں پر جاری شاہِ کونین کی مدحت […]

قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں

کچھ نور نور حرف کہوں نعت میں کہوں حسن و جمالِ کل ہیں وہ تمثیل سے ورا قرآن بہرِ مدح پڑھوں نعت میں کہوں بہرِ کرم جو جلوہ نما حشر میں وہ ہوں الفت میں ان کی جھوم اٹھوں نعت میں کہوں کاش آئے میرے نام پہ بھی اذن اور میں ہم راہ مرشدی کے […]

شاخِ سدرہ کے قلم سے مصطفیٰ کی بات ہو

دل کے کاغذ پر رقم مدحت کی یوں رشحات ہو ہے تصور میں مدینہ دم بہ دم جلوہ فگن حاضری کا اذن بھی مل جائے تو کیا بات ہو خود سمندر آئے گا در پر مرے کوزہ بکف ان کے لطفِ خاص کی مجھ پرا گر برسات ہو ذرہ ذرہ نور ہے طیبہ کی ارضِ […]

لفظوں میں نہیں تاب کہ وہ کیف بیاں ہو

سر خم ہو درِ شاہ پہ اشکوں کی زباں ہو جس شہر میں ہیں جلوہ فگن جانِ بہاراں ممکن ہی نہیں اس میں کبھی لوثِ خزاں ہو ماکنت تقولوا، ہو نکیرین کے لب پر اور لب پہ مرے مدحِ شہِ کون و مکاں ہو حسنین و علی، فاطمہ زہرا کے تصدق مجھ کو بھی عطا […]

مدینہ منور ہوا جن کے دم سے

مکرم ہے مکہ انہی کے کرم سے بقا میری مشروط و منسوب ہے بس سرِ حشر میرے نبی کے نعم سے ملا جب سے اذنِ ثنائے محمد رواں نعتِ احمد ہے میرے قلم سے حزیں ہوں فراقِ مدینہ میں آقا ہوا جاں بہ لب ہوں میں رنج و الم سے میں امراضِ عصیاں کا مارا […]