تمھارے نور کا صدقہ ملا ہے ان ستاروں کو
سلامِ عاجزانہ پیش ہے ان چار یاروں کو یقینا چوم کر آتی ہے تیرے سبز گنبد کو تبھی بادِ صبا چھیڑے ہے میرے دل کے تاروں کو مہک اٹھے مدینہ جانے والے سارے ہی رستے کیا جب آپ نے زیرِ قدم ان ریگ زاروں کو کہیں جبریل آتے ہیں کہیں صدیق جاتے ہیں مشرف آپ […]