قرارِ قلبِ مضطر ہیں مکینِ گنبدِ خضریٰ

محبت ہی سراسر ہیں مکینِ گنبدِ خضریٰ انہی کے روئے انور سے ہے خورشیدِ فلک روشن ضیائے ماہ و اختر ہیں مکینِ گنبدِ خضریٰ بشر ہونے کا اعلاں بھی یقینا حق پہ مبنی ہے پہ نورِ ربِ اکبر ہیں مکینِ گنبدِ خضریٰ چنیں پلکوں سے خاکِ پا تمنا دل میں ہے لیکن کہاں ایسے مقدر […]

موجزن ہے خوشبوؤں کا اک سمندر ،واہ واہ

گیسوئے آقا ہیں جیسے مشک و عنبر، واہ واہ یہ چمکتے اور دمکتے مہر و ماہِ آسماں ہیں منور تیری پیزاروں سے جھڑ کر، واہ واہ درمیاں اصحاب کے والشمس کی تابانیاں تارے صدیق و عمر، عثمان و حیدر، واہ واہ چل پڑے سدرہ سے بھی آگے بصد شان و حشم سے جانبِ قصرِ دنیٰ […]

ترے حضور یہ سوغات لکھ کے لایا ہوں

میں بے ہنر یہ مناجات لکھ کے لایا ہوں اگرچہ مدح کے شایاں ملا نہ حرف کوئی وفورِ شوق میں جذبات لکھ کے لایا ہوں سخن کا مرکز و محور تری ہی ذات رہی ترا ہی نام تری بات لکھ کے لایا ہوں کریم آپ کی مرضی پہ ہے قبولِ سخن میں ٹوٹے پھوٹے یہ […]

تری رحمت سے اذنِ حاضری کی جب خبر آئی

یکایک چاندنی صحنِ تمنا میں اتر آئی وفورِ ہجرِ سے رکنے لگا تھا میرا دل لیکن شبیہِ نقشِ نعلِ پاک اس دل پر ابھر آئی مری آنکھیں مچل اٹھیں گی شوقِ دیدِ طیبہ میں کسی زائر کی گردِ رہ گزر، ان میں اگر آئی زباں پر آنے والی تھی صدائے السلام آقا مگر چشمِ عقیدت […]

شافعِ روزِ جزا نورِ ہدیٰ ماہِ عرب

بالیقیں ہیں آپ شاہِ انبیا ماہِ عرب قبر میں کنت تقولوا جب کہیں منکر نکیر اس گھڑی ہونٹوں پہ ہو صل علی ماہِ عرب گو نہیں زادِ سفر لیکن گزارش ہے یہ ہی اذن طیبہ کا مجھے کردے عطا ماہِ عرب تذکرہ کرتا رہوں ہر وقت شہرِ نور کا زیست کا مقصود ہے طیبہ ترا […]

نعت لکھتا ہوں تو لگ جاتے ہیں اعرابِ نور

میم لکھتے ہی امڈ آتے ہیں سیلابِ نور آنکھ لگتے ہی تری دید عطا ہوجائے کاش ایسا بھی عطا ہو مجھے اک خوابِ نور وہ ہوں صدیق و عمر یاہوں غنی و حیدر سروں کے تاج ہیں ، تیرے سبھی اصحابِ نور وقتِ رخصت بھی مواجہ پہ نگاہیں ہیں جمی دل میں بجتی ہے مرے […]

دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے

حرف و بیانِ شوق بھی تیری عطا سے ہے آنکھوں سے چُومتا ہُوں ترا گنبدِ جمیل اِس کا جمال و نور ترے نقشِ پا سے ہے صدیوں کے فاصلے میں بھی ہے یوں ہی سر بلند نسبت تمھاری نعت کی تو خودخُدا سے ہے شُکرِ خُدا کہ ہُوں رہِ حسّاں پہ گامزن آغازِ نطق میرا […]

لوحِ دل پر نقش ہے نقشِ کفِ پا آپ کا

اس لیے محشر میں ہے ہم کو سہارا آپ کا حکم پا کر آپ کاسورج پھرا، الٹے قدم چاند دو ٹکڑے ہوا پاکر اشارہ آپ کا چھٹ گئے سب غم کے بادل مٹ گئے رنج و الم نامِ نامی جیسے ہی میں نے پکارا آپ کا انگلیوں کی اوٹ سے دیکھا جسے حسان نے نور […]

نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں

درِ نبی در پہ بہت دل فگار آیا ہوں حروفِ عرض لبِ شوق پر سجائے ہوئے ترے دیار میں زار و قطار آیا ہوں بوجہِ عصیاں ہوں آشفتہ ، نادم و نالاں میں لے کے دامنِ دل تار تار آیا ہوں متاعِ حرف و سخن نعت سے نہ ہو قاصر دیارِ پاک میں اب اشک […]

باعثِ ردِ بلائے دو جہاں میرے نبی

آپ ہی ہیں دافعِ ہر اک زیاں میرے نبی پردۂ قربت میں رب نے کیا دیا کتنا دیا صرف رب ہے اور اس کے راز داں میرے نبی آپ کی آمد پہ طیبہ میں نرالی دھوم تھی دف پہ گاتی تھیں ترانے بچیاں میرے نبی انگلیوں کی اوٹ سے حسان نے دیکھا اسے آپ کا […]