چشمِ نم آپ کا دیدار ہی مانگے جائے

دید کو حسنِ طرح دار ہی مانگے جائے دست بستہ ہے زباں آپ کے در پر آقا دولتِ مدحتِ سرکار ہی مانگے جائے نقشِ نعلینِ کرم بار پہ سر رکھنے کو بے خودی سنگِ درِ یار ہی مانگے جائے جذبۂ شوق مرا چشمِ بصیرت کے لئے خاکِ نعلینِ کرم بار ہی مانگے جائے معتبر ہو […]

نعت تب ہوتی ہے جب دل پہ ہو تنزیل کوئی

نطق کو اذنِ نبی سے ملے ترتیل کوئی وہ احد ہے کہ تجھے جس نے دیا خلقِ عظیم لائے کیسے مرے آقا تری تمثیل کوئی احمد و حامد و محمود و محمد میں ہے رفعتِ میم کی ممکن نہیں تفصیل کوئی ہر صحیفے میں ہوا ذکرِ محمد روشن ہر شبِ تار کو بخشی گئی قندیل […]

مدحِ حسنِ تام جاری کو بہ کو ہے

لمحہ لمحہ حسنِ کل کی گفتگو ہے حاصلِ نطق و بیاں ہے ذاتِ احمد آپ جیسا دوسرا نہ خوبرو ہے مقصدِ عمرِ رواں ہے نعت تیری دیدۂ حیرت کو تیری جستجو ہے مرکزِ نکہت ہے شہرِ مصطفی تو اس لیے ہر ایک کوچہ مشکبو ہے اک عجب ہی کیف میں ہے قلبِ عاصی جب سے […]

اندھیری راتیں اجال رکھیں بہ اسمِ احمد

شکستہ سانسیں بحال رکھیں بہ اسمِ احمد اندھیرے سارے اُس اسمِ اعظم سے ہی چھٹے ہیں مصیبتیں ساری ٹال رکھیں بہ اسمِ احمد جو چند سطریں بطورِ مدحِ نبی ہوئی ہیں وہ بہرِ بخشش سنبھال رکھیں بہ اسمِ احمد ملاحتیں اور صباحتیں دو جہاں میں ساری ہیں دستِ قدرت نے ڈال رکھیں بہ اسمِ احمد […]

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن

انہی کے ذکر سے ہیں یہ زمیں ،زماں روشن حضور بہرِ کرم میرے گھر میں آئیں گے کبھی تو میرا بھی ہو جائے گا مکاں روشن یہ فیض ان کے ہی نعلینِ نور بار کا ہے خرام ناز سے جن کے ہے کہکشاں روشن نقابِ نور ہے ان کے حسین چہرے پر وفورِ نور سے […]

نبی کے دم سے ہی یہ ہست و بود قائم ہیں

رواں دواں ہے جہاں اور وجود قائم ہیں ہوائے طیبہ مرے بام و در سے گزری ہے فضائے دل میں مرے مشک و عود قائم ہیں برورِ حشر ہر اک فعل مسترد ہے مگر پڑھے تھے جتنے بھی سارے درود قائم ہیں نبی کی آلِ عبا کے لہو کا ہے یہ ثمر بہ پیشِ رب […]

مدینہ منبعِ خوشبو ہے شہرِ شاہِ خوباں ہے

وہاں کا ذرہ ذرہ لعل ہے ،گوہرہے ، مرجاں ہے جھما جھم بارشِ رحمت ہوا کرتی ہے طیبہ میں کہ خود جبریل اس رحمت کدہ کا نوری درباں ہے نچھاور جان و دل اس گنبدِ خضریٰ کی رونق پر مکیں جس کا انیسِ بے کساں محبوبِ یزداں ہے مرے آقا کرم کی اک نظر قلبِ […]

جانِ کرم حضور ہیں شانِ عطا حضور

سب کے لیے ہیں سایۂ جود و سخا حضور لالے پڑے ہیں عقل کو کیسا سفر کیا لمحوں میں عرش پر ہوئے جلوہ نما حضور ملتی نہیں مثال تمھارے جمال کی ممکن نہیں تمھاری طرح دوسرا حضور نکہت ہوائے طیبہ میں ہے آپ کے سبب لہرائی ہے جو آپ کی زلفِ دوتا حضور ٹھوکر میں […]

دیارِ نور کو دل میں بسائے بیٹھا ہوں

میں اپنا سینہ مدینہ بنائے بیٹھا ہوں حصارِ کیف میں محسوس ہو رہا ہے وجود درودِ عشق لبوں پر سجائے بیٹھا ہوں عطا ہو جلوۂ زیبا قضا کے وقت مجھے ازل سے دل میں یہ حسرت جگائے بیٹھا ہوں اسی لیے ہوں میں ہر ایک فکر سے آزاد حصار نعت نبی کا لگائے بیٹھا ہوں […]

رشکِ ایجاب تبھی حرفِ دعا ہوتا ہے

آل احمد کا وسیلہ جو عطا ہوتا ہے جوڑتا ہوں سرِ قرطاس عقیدت سے حروف اور مقصودِ سخن ان کی ثنا ہوتا ہے یک بیک شعر اترتے ہیں تری مدحت میں خامۂ عجز تری سمت جھکا ہوتا ہے مدحتِ حسنِ مکمل ہو اگر جانِ سخن بابِ انعام ہمیشہ ہی کھلا ہوتا ہے وحشتِ عرصۂ دوراں […]