تیری توصیف ہوگی رقم دم بہ دم

ناز کرتا رہے گا قلم دم بہ دم ہوں گے صلحا پہ جود و عطا کس قدر مجھ خطا کار پر ہیں کرم دم بہ دم والضحیٰ، میں یہ الفاظ ہیں بیش و کم تیرا بڑھتا رہے گا حشم دم بہ دم نعت لکھ کر یہ احساس ہونے لگا مٹ رہے ہیں مرے رنج و […]

خلقِ خدا میں فائق، صلِ علیٰ محمد

عرشِ بریں کے لائق، صلِ علیٰ محمد میں گدائے سنگِ در ہوں وہ کریم تاجور ہیں جود و کرم کے شائق، صلِ علیٰ محمد ہر امتی کی بخشش ہوگی بروزِ محشر قرآں میں ہیں وثائق، صلِ علیٰ محمد یہ ردیف قافیہ ہیں یہ جو شعر نعتیہ ہیں بخشش کے ہیں حدائق، صلِ علیٰ محمد محبوب […]

دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

دل نشیں ہیں ترے خال و خد یا نبی تو ہے محبوبِ ربِ احد یا نبی لاڈلا تو ہے خلاقِ کونین کا ناز اٹھاتا ہے تیرے صمد یا نبی نکتہ بیں نکتہ داں نکتہ رس آپ ہیں دنگ ہیں اہلِ عقل و خرد یا نبی قبر میں، حشر میں اور میزان پر آپ فرمائیے گا […]

عشقِ سرور میں بے قرار آنکھیں

خوش مقدر ہیں اشکبار آنکھیں خوبصورت ہے جس کا ہر منظر ڈھونڈتی ہیں وہی دیار آنکھیں حسرتِ دید لے کے پلکوں میں ان کا کرتی ہیں انتظار آنکھیں جلوہ گر ہے جو دشتِ طیبہ میں مانگتی ہیں وہی غبار آنکھیں پانی پانی ہوئیں مواجہ پر جرمِ عصیاں سے داغدار آنکھیں میں تہی دست کاش کر […]

مرا واسطہ جو پڑے کبھی کسی تیرگی کسی رات سے

میں کشید کرتا ہوں روشنی ترے نام سے تری نعت سے ترے در کے قرب و جوار سے مرا ہر خیال جڑا رہے رہوں منسلک ترے شہر سے ترے سنگِ در، تری ذات سے تری رفعتیں ہیں فلک فلک، ترا تذکرہ ہے زباں زباں تری گفتگو کریں بلبلیں کبھی ڈال سے کبھی پات سے تو […]

میرے ہونٹوں پہ ترا نام تری نعت رہے

نوکِ خامہ پہ ترے لطف کی برسات رہے اب کسی اور طرف ہو نہ توجہ میری میرا موضوعِ سخن صرف تری ذات رہے دست بستہ جو درِ شاہِ امم پر گذرے حاصلِ زیست وہی قیمتی لمحات رہے حسرتِ دید مچلتی ہے مری پلکوں پر روز افزوں یہ مرا شوقِ ملاقات رہے آلِ اطہار کی نسبت […]

ترے نام کے نور سے ہیں منور مکاں بھی مکیں بھی

ترے در سے چمکا رہے ہیں مقدر مکاں بھی مکیں بھی ہوا نور تخلیق روحِ دو عالم کا ہر شے سے پہلے رہے قبلِ تخلیقِ سرور مؤخر مکاں بھی مکیں بھی مبارک پسینے کی نایاب خوشبو وہ لائیں کہاں سے سبھی ڈھونڈتے ہیں وہی مشک و عنبر مکاں بھی مکیں بھی زمین و زماں پر […]

تیرے در پر خطا کار ہیں سر بہ خم اے وسیع الکرم

حشر کے روز رکھنا ہمارا بھرم اے شفیع الامم تیرا پہلا قدم اوجِ سدرہ پہ تھا اے مرے مقتضا اوجِ قوسین کا فاصلہ بھی ہے کم اے سریع القدم تو شہنشاہ و مختارِ دنیا و دیں رحمتِ عالمیں دو جہانوں پہ ہیں تیرے لطف و نعم اے جمیع الحشم بیتِ معمور پر بھی ہے جھنڈا […]

شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

تحلیل ہو گئے غم، میلادِ مصطفیٰ پر وردِ زباں ہو ہر پل یہی جاوداں وظیفہ پڑھیے درود پیہم میلادِ مصطفیٰ پر کون و مکاں کی ارفع نعمت عطا ہوئی ہے مسرور کیوں نہ ہوں ہم، میلادِ مصطفیٰ پر رگ رگ میں روشنی سی اتری قرار بن کر بے چینیاں گئیں تھم، میلادِ مصطفیٰ پر پت […]

شاہِ کونین کا سنگِ در چھو لیا

گویا خاکِ عجم نے قمر چھو لیا میرے لفظوں کو رتبہ ملا نعت کا میرے خامہ نے اوجِ ہنر چھو لیا جب نظر نے چھوا گنبدِ سبز کو اک اماوس نے روئے سحر چھو لیا جس کی تنصیب دستِ کرم سے ہوئی مجھ گنہگار نے وہ حجر چھو لیا دل مدینے کی خاطر مچلنے لگا […]