یکتَا بہ فضِیلت ہیں ہر اَبرار سے پہلے

ہے بعد میں ہی کوئی ، نہ سرکار سے پہلے مدحَت کے ہر اک لفط میں تعظیم ہے کامِل اور سجدے میں سب حَرف ہیں اِظہار سے پہلے گنبد کو نظَر چومے گی روضے کی حدوں تک گر ہوش رہا ، کُوچہ و بازار سے پہلے یہ پیڑ نبّوت کا حِسیں اَیسا کہاں تھا اِس […]

جو رنگ و بو سے ہو خالی وہ پھول کیسے ہو

تمہارے بعد کوئی بھی رسول کیسے ہو ہمیں یہ شوق کہ دل پُر ملول کیسے ہو عدو کو فکر کہ آنسو فضول کیسے ہو جو دل پہ لکھا گیا ہے بڑی محبت سے حضورِ آقا یہ نامہ قبول کیسے ہو جہاں فرشتہ بھی رہ جائے ز یرِ پا اس جا کوئی وجود ترے رہ کی […]

سکوتِ ذکر تھا صوت وصدا سے دُور نہ تھے

سکوتِ ذکر تھا صوت و صدا سے دُور نہ تھے پیمبری کے صحیفے حرا سے دور نہ تھے اتر رہی تھی کچھ ان میں بھی روح سے شبنم ہمارے ہونٹ جو حرفِ ثنا سے دور نہ تھے بٹھا کے شانوں پہ خوشبو کو لے گئی طیبہ کھڑے تھے ہم بھی چمن میں صبا سے دور […]

مصائب کی سر پر کڑی دھوپ ہے

بُلا لو مدینے بڑی دھوپ ہے یہاں ہجر میں چھاؤں بھی خار ہے وہاں پھول کی پنکھڑی، دھوپ ہے جو خضریٰ کی چھاؤں نے دی ہے صدا سمجھ لو گھڑی دو گھڑی دھوپ ہے تمازت کی برچھی جو لذت میں ہے ترے در کی دل میں گڑی ُدھوپ ہے ہو جس کے بھی پیشِ نظر […]

ہمیں جو ہوئی یہ ساری عطا حضور سے ہے

جہان میں یہ تمام ضیا حضور سے ہے لگا کے یہ دل نہ بدلا ہے در نہ پھیری نظر سو عشق ہمیں حضور سے تھا ، حضور سے ہے تمام نبی عظیم ہیں پر بہ روزِ جزا خدا کا کرم ہماری بقا حضور سے ہے خدا سے ملا جو مانگا ہے سب یہ سچ ہے […]

مدینہ ہے یا کوئے خلد ، منظر ہو تو ایسا ہو

زمانہ آ کے جھکتا ہے جہاں ، در ہو تو ایسا ہو وہ جس کے عشق میں ڈوبیں تو دریا وسعتیں پائیں جہانِ مہر و الفت میں سمندر ہو تو ایسا ہو بدن کو چھو کے جس کے خاک بھی اکسیر بنتی ہے صدف بھی جس پہ خود نازاں ہے ، گوہر ہو تو ایسا […]

درِ غلامِ محمد پہ جب جل رہا ہے چراغ

ہوا کے دوش پہ بھی کتنا پر ضیا ہے چراغ جو پوچھے ظلمتِ شب سے کوئی کہ کیا ہے چراغ بڑے ادب سے وہ کہتی ہے مصطفےٰ ہے چراغ ضیائیں کی تو ہیں تقسیم انبیا نے مگر مرے نبی پہ جو اترا وہی بڑا ہے چراغ ہجوم کیسے نہ ہو چار سو پتنگوں کا بڑی […]

عطا ہوتے ہیں بحر و بر گدا دل سے اگر مانگے

اسے حاجت ہی کیا ہو جو عنایت کی نظر مانگے درِ احمد پہ جب ادنیٰ و اعلیٰ سب مساوی ہیں تہی دامن رہے کیوں با ہنر یا بے ہنر مانگے نمازیں یوں تو مسجد میں بھی کرتا ہوں ادا لیکن جبیں ناز آفریں ہونے کو بس تیرا ہی در مانگے فضائے ناز میں پرواز کروائیں […]

ہر گام مدینے میں ایسے انوار دکھائی دیتے ہیں

جس سمت نگاہیں اٹھتی ہیں سرکار دکھائی دیتے ہیں ہر کانچ کا ٹکڑا سونا ہے ہر ریت کا ذرہ ہیرا ہے طیبہ کے دشت و صحرا بھی گلزار دکھائی دیتے ہیں جب شوق ہو منزل پانے کا تو دُوریاں بھی نزدیکیاں ہیں پُر خار ہوں رستے لاکھ مگر کب خار دکھائی دیتے ہیں سرکار نے […]

ہیں صبحیں میری روشن ہے اجالا میری شاموں میں

تمہارے ذکر سے پیدا ہے برکت میرے کاموں میں پیا اک جام جس نے بھی مٹے آزار سب اس کے سکونِ قلب ایسا ہے تری الفت کے جاموں میں ذرا سے اک اشارے سے بدل دیتے ہیں تقدیریں کراماتیں ہزاروں ہیں محمد کے غلاموں میں ترے اوصاف پر کرتی رہے گی ناز سچائی بھرے ہیں […]