درجاتِ مصطفےٰ میں یوں تفریق کی گئی

نبیوں سے بھی نہ آپ کی تطبیق کی گئی ہے وہ رہینِِ منتِ محبوبِ لم یزل جو شے بھی کائنات میں تخلیق کی گئی آئینہءِ عمل میں وہ تصویرِ صدق ہیں ہر عہد میں صفات کی تصدیق کی گئی ہے فیضِ عشقِ نعت کہ در سے غریب کے نعمت کبھی نہ لوٹ کے توفیق کی […]

نثار دل ہو درودوں پہ جان نعت میں ہو

تو کیوں نہ نامہِ اعمال دائیں ہات میں ہو وہ جس کے صدقے میں تخلیق دو جہاں ہوئے ہیں دکھاؤ کوئی اگر ایسا کائنات میں ہو جو ان کے در پہ کھڑا ہو کے ہاتھ پھیلاؤں دعا کا حسنِ پذیرائی شش جہات میں ہو میں چاہتا ہوں کہ جب حرفِ میم لکھنا ہو قلم ڈبوؤں […]

اُمّتی ان کا ہوں جو عرشِ علیٰ تک پہنچے

کیوں عدو کوئی مری رمزِ بقا تک پہنچے شدتِ عشق میں لے جائے گا طیبہ اس کو میرا ایک اشک اگر بادِ صبا تک پہنچے اس کی معراجِ سعادت پہ فدا میرے سفر نینوا سے جو کوئی غارِ حرا تک پہنچے کنزِ ایمان سے ہو کر گئے سب مالا مال وہ حدی خوان جو صحرائے […]

مدحَتِ شاہِ مُرسلاں کا باغ

پھر کھلانے لگا ہے جاں کا باغ پھر گواہی صدا میں گُونج اُٹھی پِھر فضا میں کِھلا اَذاں کا باغ پھر لبوں پر درود جاری ہوا پھر مہکنے لگا بیاں کا باغ نقشِ نعلیَنِ مصطفےٰ سے ہے خاکِ طیبہ میں آسماں کا باغ آلِ احمد پہ ہے بہارِ دوَام سب سے خوش رُو ہے باغباں […]

جب سجاتا ہوں چراغِ شہِ لولاک سے طاق

آسماں لگتا ہے انوار کے الحاق سے طاق جہاں خدامِ نبی رہتے ہوں ان جھونپڑوں میں بادِ صر صر کو ہَرا دیتے ہیں خاشاک سے ، طاق فیضِ سرکار، عقیدت کو بنا دے گا چراغ ہم اگر پیدا کریں عشق میں ادراک سے طاق اُس دئیے کی ، ہے پناہوں میں ، ہماری ظلمت جس […]

بہ فرطِ سوز و محبت یہ معجزہ ہوجائے

بہ فرطِ سوز و محبت یہ معجزہ ہو جائے کہ دل مدینہ بنے ، آنکھ کربلا ہو جائے گلی میں ان کی الگ ہیں رموزِ سُلطانی وہاں وہی ہے شہنشاہ ، جو گدا ہو جائے کفَن مدینے کے بازار کا ملے اور پھر مری جو خاک اُڑے زینتِ ہَوا ہو جائے ھُما ، چھپاتے پھریں […]

عشقِ نبی میں یہ جو "تڑپ "ہے مکینِِ شوق

عشقِ نبی میں یہ جو ” تڑپ ” ہے مکینِِ شوق گویا ، متاعِ ارض و سما ہے رہینِِ شوق مائل بہ التفات ہوں آقائے خوش خرام لگتی ہے مثلِ عرشِ عُلیٰ سر زمینِ شوق سنگِ درِ حضور پہ ہے سجدہ ریز ، سر ناز آفریں ہے اَوجِ فلک کو جبینِِ شوق زیب۔ِ ریاضِ قلب […]

مستند ہے کہا ہوا تیرا

رشکِ مسند ہے بوریا تیرا نعت سے عشق ہے سو ہونٹوں سے نام ہوتا نہیں جدا تیرا وجد میں دو جہان آتے ہیں ذکر کرتی ہے جب ہوا تیرا پھول دھڑکن میں گھلتے جاتے ہیں لب پہ ہے گلشنِ ثنا تیرا منزلوں تک دئیے جلاتا ہے راہ میں ایک نقشِ پا تیرا لفظِ کُن روشنی […]

زرکی طلب ، نہ شاہ کی پوشاک چاہئیے

بس اک نگاہِ سّیدِ لولاک چاہئیے رحمت کی اوس پر ہے چمن بھی فدا جسے گُل سے بھی قبل ہستیِ خاشاک چاہئیے تارِ کفن سے پھوٹیں گے جلوے مزار میں اسمِ شہِ مدینہ سرِ چاک چاہئیے اے خوش گلو! یہ مدح سرائی ، بجا مگر تاثیر کے لئے، دلِ صد چاک چاہئیے کرنی ہے شمعِ […]

گر ملے تو لوں میں بوسے خامہء حسان کے

جس نے لکھے لفظ نعتِ سرورِ ذیشان کے نعت لکھتے ہیں جو صفحے چوم کر قرآن کے سائے میں بیٹھے ہیں وہ بھی حضرتِ حسان کے عقل و دل کرتے ہیں جس لحظہ طوافِ مرتبت خاک پر پاؤں کہاں پڑتے ہیں نقطہ دان کے فیضِ قربت ہے کہ تیری بارگاہِ پاک پر چومتے ہیں بادشہ […]