من موہن کی یاد میں ہر پل ساون بن کر برسے نیناں

تاک رہے ہیں راہ پیا کی لڑکپنے سے ترسے نیناں تڑپ رہے تھے دکھ کے کارن دید کی آشاؤں میں بیا کل چوکھٹ پر دھر کے آیا ہوں گھائل تھے اندر سے نیناں سیّاں جی بس ایک نجر اس دکھیارے کی اور بھی ہو جی جائیں گے ایک ہی پل میں تمری ایک نجر سے […]

مشکِ جاں ساز رگِ جاں میں بسا ہووے ہے

جب مرے لب پہ محمد کی ثنا ہووے ہے میرے پہلو مرے سینے میں دھڑکنے والا اب درِ سیدِ عالم پہ جھکا ہووے ہے کون روتا ہے مدینے کی حضوری کے لئے واقفِ رازِ نہاں دیکھ رہا ہووے ہے میں سجاتا ہوں مدینے کی ضیا آنکھوں میں ظلمتِ شب مری آنکھوں سے خفا ہووے ہے […]

دیارِ طیبہ میں کچھ مسافر کرم کی لے کر ہوس گئے ہیں

دکھا دو جلوہ ہٹا کے پردہ ہمارے نیناں ترس گئے ہیں ہمیں بھی دو بوند ہوں عنایت ہمارا دامن بھی منتظر ہے تری عطا کے، ترے کرم کے مطیر بادل برس گئے ہیں کوئی بھی دل کش حسین منظر نظر میں جچتا نہیں ہماری درِ نبی کے حسیں نظارے ہماری آنکھوں میں بس گئے ہیں […]

آج بھی پلکوں پہ لرزاں ہجر کا تلخاب ہے

جانے کب تقدیر میں دیدار کا نوشاب ہے تیرے دم سے رونقِ کونین ہے یا مصطفیٰ خاکِ طیبہ تیری نسبت سے ہوئی زرناب ہے اس کی آنکھوں کو فرشتے دیکھنے آتے رہے جس کی آنکھوں میں مدینے کی گلی کا خواب ہے بے شبہ میرا نبی ہے رونقِ بزمِ جہاں منبعِ انوار ہے خورشیدِ عالم […]

کیسے رکھتا میں آنکھوں کا نم تھام کر

خوب رویا ستونِ حرم تھام کر آپ حرفِ تسلی عطا کیجئے در پہ آیا ہوں رنج و الم تھام کر مجھ کو گرنے کا ڈر اب تو قطعاً نہیں مجھ کو رکھتا ہے تیرا کرم تھام کر بال بیکا ہمارا ہو کیوں حشر میں ان کا دامن نہ چھوڑیں گے ہم تھام کر حکمِ رحمان […]

درونِ دل محبتوں کا اعتکاف ہو گیا

حضور نے کرم کیا تو دل مطاف ہو گیا اڑائی گردِ معصیت درود کے جمال نے ہمارے دل کے آئینے سے میل صاف ہو گیا مشامِ جاں میں عشقِ مصطفیٰ کی روشنی بسی تو ظلمتوں کے موسموں سے اختلاف ہو گیا عطا بہت عظیم ہے یہ لم یزل کریم کی حضور کی طرف ہمارا انعطاف […]

محبتِ رسول میرے من کی میت ہو گئی

مقیم قلب و جاں میں مصطفیٰ کی پیت ہو گئی حصار میں لیا ہوا تھا معصیت نے روح کو کریم نے کرم کیا ہماری جیت ہو گئی ڈرا رہا تھا میرا ضعف مجھ کو پل صراط سے مؤدتِ حبیبِ کبریا مقیت ہو گئی معاف ہوں گی عاصیوں کی سب خطائیں حشر میں خدا و مصطفیٰ […]

تیرگی کو سحر کر لیا جائے تو؟

سوئے بطحا سفر کر لیا جائے تو؟ ہوگا اک ایک لمحہ بہت قیمتی سنگِ در پر بسر کر لیا جائے تو دوڑتی ہے رگِ جاں میں آسودگی یاد سرور کا در کر لیا جائے تو شاہ کی نعت کے شعر میں جوڑ کر حرف اپنا گہر کر لیا جائے تو؟ اشک شوئی کی عادت ہے […]

راستہ دکھاتا ہوں نعت کے اجالے سے

میں بھی جانا جاتا ہوں نعت کے حوالے سے جب خیال آتا ہے صاحبِ دو عالم کا روح میں اترتے ہیں بے بہا اجالے سے کب قرار پائے گا میرا دل مدینے کا چبھ رہے ہیں سینے میں فرقتوں کے بھالے سے ریگِ دل میں پھوٹا ہے آب ہجرِ طیبہ کا سیر ہو کے پیتا […]

بروزِ حشر غلاموں کا راز فاش نہ ہو

بھرم ہمارا سرِ حشر پاش پاش نہ ہو بھلاؤں یادِ شہِ ذی وقار جس لمحے وہ ایک لمحہ مری زندگی میں کاش نہ ہو حضور آپ کے قدمین میں قلم میرا سخن شعار ہو لیکن سخن تراش نہ ہو مرا غرور بنیں حرفِ نعت محشر میں مدیحِ سرورِ عالم مرا معاش نہ ہو ہر ایک […]