عشق احمد کا قرینہ آ گیا

میری نظروں میں مدینہ آ گیا جھک گئے ارض وسما بہرِ ادب مرحبا لالِ امینہ آ گیا جب بھی ان کو راہبر میں نے کیا میرا ساحل پر سفینہ آ گیا ہو مبارک آمنہ بی بی کے گھر رحمتِ رب کا خزینہ آ گیا اے فداؔ یادِ نبی کی شکل میں میرے دامن میں نگینہ […]

من عرف نفسہ فقدعرف ربہ

سکونِ جاں کے لیے، دل کی روشنی کے لئے ہے تیرا جلوہ ہی سرمایہ بندگی کے لئے تجلی طور کی موسیٰ کے ہوش کھو بیٹھی تھا عرش پہ ترا جلوہ عیاں نبی کے لئے تلاش کرتے ہیں دیر و حرم میں لوگ تجھے نہاں ہے جلوہ ترا دل میں بندگی کے لئے گداز قلب میں […]

دکھا دیجے عاصی کو شہرِ مدینہ

نہیں آتا گو بندگی کا قرینہ وسائل مہیا نہیں کم تریں کو ہوں اسباب پیدا تو آؤں مدینہ یہاں بھی کہیں خلد میں کہیں گے مہکتا ہوا ہے نبی کا پسینہ طلبگار جنت کا ہے شیخ تو ہو میری آرزو تو ہے شہرِ مدینہ کبھی وہ نہ دوزخ میں جائے گا زاہد وہ جس نے […]

اک نظر بر حالِ ما آقائے من پیارے نبی

ہوں غریب و بے نوا آقائے من پیارے نبی پتھروں نے بند مٹھی میں بصد عجز و نیاز آپ کا کلمہ پڑھا آقائے من پیارے نبی مل نہ پایا اس جہاں میں آپ کے گستاخ کو قعرِ ذلت کے سوا آقائے من پیارے نبی اقتدار و دولت و زر مجھ غلامِ زار کو آپ کے […]

آپ کا ذکر ہونٹوں پہ ہے دم بدم

آپ کی ذات ہے برتر و محتشم ہم کو طیبہ بلا لیں براہِ کرم اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم ہم کو گھیرے ہوئے ہیں جہاں کے الم رحمت عالمیں افضل و محترم غم کے مارے ہوئے ہیں پریشان ہم اے حبیبِ خدا اے شفیعِ امم کب سے ہم ہیں طلب گارِ چشمِ کرم ہو […]

ہم کو یوں عشقِ محمد کا صلہ ملتا ہے

بندگی کرتے ہوئے ہم کو خدا ملتا ہے عشقِ احمد میں ہوئے گم تو حقیقت یہ ہے نعت گوئی میں عجب ہم کو مزہ ملتا ہے پڑھتے رہتے ہیں عقیدت سے درود اور سلام غنچۂ حسرتو ارمان کھلا ملتا ہے لعنت و قہرِ الہی کے سوا اے یارو منکرِ عظمتِ سرکار کو کیا ملتا ہے […]

جو بھی مانگو وہ دیا کرتے ہیں

میرے آقا یہ عطا کرتے ہیں میرے سرکار سراپا رحمت حق میں دشمن کے دعا کرتے ہیں جو ہیں ان کے وہ مصیبت میں سدا یا محمد ہی رٹا کرتے ہیں چاہتے ہیں جو بصد عجز سدا ان سے ہم مانگ لیا کرتے ہیں یہ بھی ہے لطف و کرم آقا کا خواب میں درس […]

تاج کی ہے طلب اور نہ زر چاہئے

یا نبی آپ کا مجھ کو در چاہئے مجھ کو محلاتِ جنت کی خواہش نہیں شہرِ طیبہ میں بس ایک گھر چاہئے جو فقط یادِ سرور میں بہتی رہے مجھ کو تو صرف وہ چشمِ تر چاہئے اور درکار کوئی سہارا نہیں مجھ کو لطفِ شہِ بحر و بر چاہئے

یہ آواز آتی ہے بیتِ حرم سے

مری آبرو ہے محمد کے دم سے سنور جائیں دنیا و دیں دونوں اس کے نبی دیکھ لیں جس کو چشمِ کرم سے جو سرکار کا دیکھا روئے مبارک تو پھیرا ہے رخ پتھروں کے صنم سے مدینے کے گلزار کی رنگ و بو میں فضائیں تو آئی ہیں باغِ ارم سے میں جب بیٹھتا […]